کورونا کے دور میں اعلیٰ تعلیم: کیا آن لائن ڈگری کیمپس میں حاصل کی گئی تعلیم کا متبادل ہوسکتی ہے؟

    • مصنف, جیسیکا جونز
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

جب 32 برس کے بلیئر کری گذشتہ سال یونیورسٹی آف لندن سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رہے تھے تو ان کا لندن جانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

وہ امریکی ریاست نیو جرسی میں اپنے گھر میں بیٹھ کر امریکی یونیورسٹیوں کے پروگرامز کے مقابلے میں نصف خرچ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور وہ یہ سب بڑے آرام دہ انداز میں کر رہے تھے۔

وہ اعلیٰ درجے کی تعلیم کے ساتھ مختلف ریاستوں اور ملکوں میں گھومنے پھرنے کے قابل ہو گئے تھے۔

یونیورسٹی کی ساکھ اور آن لائن پڑھائی کی سہولت نے بلئیر کی دلچسپی اس جانب کر دی۔

ان کے مطابق انھیں آن لائن ڈگری کی ساکھ کے متعلق شکوک و شبہات لاحق رہتے تھے لہٰذا ایک قابل اعتماد ادارے سے ایسا پروگرام تلاش کرنا بہت اہمیت کا حامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حالیہ برسوں میں آن لائن ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

تاہم جیسا کہ بلیئر نے کہا کہ اس طرح کے ڈگری پروگرامز کو شک کی نظر سے ہی دیکھا جاتا رہا ہے اور انھیں وہ اہمیت حاصل نہیں رہی جیسا کہ خود کیمپس میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کو حاصل رہی ہے۔

تاہم کورونا وائرس کی وبا نے اس طرح کے آن لائن پروگرامز میں دلچسپی بڑھا دی ہے اور اب ایسا تعلیمی سلسلہ ضرورت بھی بن گیا ہے۔ اب تو روایتی یونیورسٹیوں نے بھی آن لائن ہی پڑھانا شروع کر دیا ہے۔

کیا یہ سال آن لائن ڈگریوں کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک اہم سال ثابت ہو گا؟

طلبا کی بڑی تعداد کو آن لائن داخلہ لیتے ہوئے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ سب ممکن ہے۔ مارچ کے وسط سے اب تک دو کروڑ 40 لاکھ طلبا نے پہلی بار اپنی آن لائن رجسٹریشن کروائی ہے۔

آن لائن تعلیم کے پلیٹ فارم کورسرا کے چیف ایگزیکٹو جیف میگیون کالڈا کے مطابق یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں 320 فیصد تک زیادہ بنتی ہے۔

یہ سائٹ 2012 میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے دو کمپیوٹر سائنس کے پروفیسرز کی طرف سے قائم کی گئی تھی اور اس وقت ہزاروں مختصر دورانیے کے کورسز کے علاوہ مختلف 20 پروگرامز میں ڈگریاں آفر کر رہی ہے۔

رواں برس خزاں کے موسم میں گذشتہ سال 2019 کے مقابلے میں اس سائٹ کے ڈگری پروگرامز کے لیے طلبا کی 76 فیصد سے زیادہ تعداد نے رجسٹریشن کروائی ہے۔

خاص طور پر بلیئر کا یونیورسٹی آف لندن کا کورس جو کورسرا کے پلیٹ فارم سے ہی چل رہا ہے اب اس میں سالانہ 62 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح کے کورسز کے لیے دنیا کے 143 ممالک کے طلبا نے رجسٹریشن کروا رکھی ہے جن کی عمر 30 سے 40 تک بنتی ہیں۔

ابھی بھی اس صنعت کی طلب میں بہت اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اندازوں کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہی ہوگا مگر اس کے باوجود اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح آن لائن حاصل کی گئیں ڈگریوں کی اہمیت بھی یونیورسٹی میں جا کر پڑھنے جیسی ہو جائے گی۔

24 سال کی ابیگیل گومیز لیٹاؤ بھی بلیئر والے کورس میں ہی رجسٹرڈ ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اگرچہ آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے ان کے ارادے پر کسی نے براہِ راست سوال نہیں کیا تاہم اس کے باوجود انھیں جس طرح کے چند تبصرے ملے ہیں اُن سے لگتا ہے کہ ان کے بارے میں لوگوں کو شبہات ضرور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تقریباً ایسا ہی ہے جیسے کیمپس میں جا کر روایتی ڈگریاں حاصل کرنے کے مقابلے میں اسے ایک آسان رستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں جہاں میں ملازمت کرنے جاؤں گی تو وہ بھی میری سند کو اسی طرح دیکھ لیں گے اور یوں اس سے میری ملازمت حاصل کرنے کے مواقع بھی مسدود ہو کر رہ جائیں گے۔

ابیگیل کا کہنا ہے کہ کیمپسں میں پہلی ڈگری کی طرح ان کی آن لائن ڈگری بھی دراصل اتنی ہی مشکل ہے۔

ان کے مطابق اس طرح کی تعلیم کے حصول کے لیے طلبا کو زیادہ آزادی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے آپ کو ایسے ہنر ملتے ہیں جو آپ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی استعمال کر سکتے ہیں، جو کیمپس میں اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتے۔

ای ڈیکس بھی آن لائن ڈگریوں کا ایک پلیٹ فارم ہے جو ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے 2012 میں قائم کیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو ایڈم میڈروس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں نے اصلی اور آن لائن ڈگریوں کی تفریق کر رکھی ہے۔

ان کے مطابق تین سے چار سال قبل۔۔ آپ کو اس طرح کی بہت سے مثالیں دیکھنے کو ملتیں جن میں ڈگری سے پہلے i یا e لکھا ہوتا تھا، جیسے آئی ایم بی آے ( iMBA ( یا ای ماسٹرز ( eMasters)۔

اُن کے مطابق یہ اس کی بہترین مثال تھی کہ کیسے یونیورسٹیاں اپنی برانڈ کو بچانے کے ساتھ ساتھ آن لائن تعلیم کی طرف راغب ہوتی جا رہی تھیں۔

مگر اب جیسے جیسے لوگ آن لائن تعلیم کی طرف جا رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے تو یہ فرق اب تیزی سے کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مثال کے طور پر 2019 میں ہارورڈ بزنس سکول نے ایچ بی ایکس کو تبدیل کر کے ہارورڈ بزنس سکول آن لائن کرتے ہوئے اپنے کیمپس اور آن لائن پروگرامز کے درمیان فرق کو کم واضح کر دیا ہے۔

برطانیہ کے ہائر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رچل ہیوئیٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے بعد جس طرح آن لائن تعلیم کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس طرح کی تعلیم کے ساتھ جڑا داغ ختم ہو سکے گا۔

اس کا ایک پہلو تو یہ ہوسکتا ہے کہ اب تقریباً ہر کوئی آن لائن سیکھ رہا ہے۔ اس وبا نے سیکھنے کے کیمپس میں تعلیم اور آن لائن تعلیم کے فرق کو دھندلا کردیا ہے۔

اب ہر کوئی ہی آن لائن کورس کر رہا ہے۔

میگین کالڈا کا کہنا ہے کہ شاید وہ لوگ جو وبا سے پہلے ہی آن لائن سیکھ رہے تھے انھیں فائدہ حاصل ہے۔ ’رسمی یونیورسٹیاں اس وقت آن لائن تعلیم دینے پر مجبور ہیں جبکہ آن لائن سیکھنے کے جدید ترین طریقے کو ڈیزائن ہی اس لیے کیا گیا تھا اس لیے یہ دلچسپی برقرار رکھنے والا تجربہ ہے۔‘

فیونا ہالینڈز کولمبیا یونیوسٹی میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور سینیئر محقق ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ آن لائن کی جانب نہیں جانا چاہتے تھے اب انھیں اس کی جانب جانا پڑ رہا ہے اور اس لیے ہر کسی کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔‘

اس کے نتیجے میں کچھ یونیورسٹیاں آن لائن تعلیم کی جائزہ حیثیت کو بڑھانے کے لیے نئے طریقے دیکھ رہی ہیں۔ اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ کسی مضمون کو پڑھانے کے لیے ان طریقوں کو سوچا جائے جو کہ کبھی ورچوئلی پڑھانے ناممکن تھے۔

کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی میک ماسٹر یونیورسٹی میں انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے فرسٹ ایئر کا کورس مکمل طور پر آن لائن پڑھایا ہے۔

اس میں طلبا کو ورچوئل لیبز میں کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے ورچوئل رئیلٹی اور کمپیوٹر گیم ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔

انجینئرنگ شعبے کے سربراہ ایشور کے پوری کا کہنا ہے کہ جب وبا پھوٹی تو ہم نے کورس کے تمام عناصر کو ورچوئل کر دیا۔

شعبہ انجیئنرنگ کے طالبعلم جوئیل تونیکائٹس کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھیں معلوم ہے کہ آن لائن تعلیم کی وجہ کیا بنی لیکن اس سے یہ جان کر مایوسی بھی ہوئی کہ کورس مکمل طور پر یونیورسٹی جائے بغیر کیا جائے گا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب تدریس کا عمل شروع ہوگیا ہے تو انھیں یہ ان کی توقعات کے برعکس حقیقی تجربہ گاہ میں کیے گئے کام جیسا ہی لگتا ہے۔

لیکن نئے طریقہ کار کے باوجود ایشور کے پوری سمجھتے ہیں کہ آن لائن ڈگری یونیورسٹی جانے کے سماجی تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اینٹ اور پتھر کی بنی یونیورسٹی طلبہ کو ایک ڈگری سے کہیں زیادہ کچھ فراہم کرتی ہے۔ اس سے انھیں تعلق کا احساس ہوتا ہے اور نئے تجربات حاصل ہوتے ہیں۔'

مگر بہت سی آن لائن ڈگری فراہم کرنے والے اب یونیورسٹی کے اس تجربے کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اس کے بجائے وہ زیادہ عمر سیکھنے والوں کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں جو اپنے کریئر کے لیے امکانات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں لیکن جو ساتھ ہی ساتھ کام اور خاندان کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے توازن کے خواہاں بھی ہیں۔ چنانچہ ڈگری کے نسبتاً قانونی جواز کو دیکھنا مکمل طور پر چیزوں کی جانچ پڑتال کے لیے شاید غلط ہو۔

اب بھی آن لائن ڈگری کے اثرات کے حوالے سے سوالات باقی ہیں۔ کیا یہ ویسا ہی تاثر ڈالے گی جو کیمپس میں حاصل کی گئی ڈگری ڈالتی ہے۔

کیا آن لائن سیکھنے کا عمل روایتی ڈگری کی اہمیت اور قدر کو کم کرے گا؟

ٹیچرز کالج کی ہولانڈز بھی حیران ہیں کہ کیا شخصی ڈگری امیر طلبا کے لیے ہی رہ جائے گی مطلب یہ کہ کیمپس پر مبنی پروگرام کسی بہتر ڈگری کے بجائے شاید طلبا و طالبات کی حیثیت کی جانب اشارہ کر سکتے ہیں۔

لیکن ہولانڈز کا کہنا ہے کہ رسمی یونیورسٹیوں کے لیے خطرے کے بجائے آن لائن تعلیم ایک موقع بھی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ یونیورسٹیاں ان نئے طلبا و طالبات کی توجہ حاصل کرنے لیے سہولیات میسر کریں جو یونیورسٹی جا کر کبھی بھی تعلیم نہیں حاصل کر سکتے تو پھر وہ اپنی آمدن کے ذریعے کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ رسمی کالج ختم ہو رہے ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ آن لائن سطح پر تعداد بڑھے گی آن کیمپس کی نسبت۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں کچھ بھی کہنا کہ وبا آن لائن تعلیم کو کس قدر بدلے گی، یہ شاید بہت قبل از وقت ہوگا۔ اس کا جواب شاید اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ کسی بھی ملک میں تعلیمی کلچر میں آن لائن تعلیم پر منتقل ہونے کے لیے کس قدر جگہ اور سہولت ہے۔‘

مثال کے طور پر برطانیہ میں ہائر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہیوٹ نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں کچھ ایسے ماڈلز بھی ہیں جو کہ آن لائن تعلیم سے موافقت نہیں رکھتے لیکن جیسا کہ اس سال یہ سامنے آیا ہے، اس میں تیزی سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

کورسرا کے سی ای او میگیون کالڈا کا کہنا ہے کہ جب ایک بار عالمی وبا ختم ہو جائے گی تو انھیں توقع ہے کہ رسمی یونیورسٹیاں بھی دو طرح سے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں گی۔

میک ماسٹر کے پروفیسر ایشور نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اب بھی مستقبل کے لیے گنجائش موجود ہے جو کہ اس سب کی جگہ کو بہت تیزی سے بدل سکتی ہے۔

گومیز لیٹاؤ کو خدشہ ہے کہ ان کی ڈگری کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

ہولانڈز کہتی ہیں کہ میرے خیال سے وبا نے آن لائن ڈگری اور رسمی ڈگری کے درمیان موجود لکیروں کو دھندلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ اب لوگوں کی توجہ بجائے اس کے کہ کس نے آن لائن تعلیم حاصل کی یا اینٹ پتھر کی بنی درس گاہ میں جا کر حاصل کی، اس بات پر زیادہ ہو گی کہ کہاں سے حاصل کی، یعنی برینڈ کیا ہے۔

ٹم ہارلو سالٹ ریکروٹمنٹ لندن کے چیف کمرشل آفسر ہیں وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ نوکری دینے والے کے لیے قابلیت اہمیت رکھتی ہے یہ نہیں کہ اس نے تعلیم کہاں حاصل کی۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اس انسان کے لیے محسوس کرتا ہوں جس نے اپنے وقت کے دوران اپنے علم کو بڑھایا ہے ممکنہ طور پر سے کسی دوسری ملازمت سے زیادہ، یہ بہتری کے لیے کوشش کا مظاہرہ ہے جسے پر قسم کے حالات میں مثبت طور پر دیکھا جاتا ہے۔