قطبِ شمالی میں زندگی کی جھلکیاں

تین برس قبل امریکی ریاست الاسکا کے قصبے گیلینا کے باسیوں کو یوکون دریا میں سیلاب کے بعد اپنے گھربار چھوڑنا پڑے تھے۔

الاسکا کے نیشنل گارڈ اور نیشنل آرمی گارڈ نے تین سو مکینوں کا انخلا کروایا تھا۔ ان میں سے بہت سے جب سیلاب اترنے کے بعد اپنے گاؤں لوٹے تو پتہ چلا کہ اب ان کے گھر رہائش کے قابل نہیں رہے۔

اس کے بعد ایک باسی نے برطانوی فوٹوگرافر ایڈ گولڈ کو بلا کر ان سے کہا کہ وہ اس برادری کی تصویر کشی کریں۔

گولڈ نے جو پہلی تصویر لی وہ گیلینا کے شہری سڈنی ہنٹنگڈن کے جنازے کی تھی۔ ان کے تابوت کو یخ بستہ یوکون دریا کے اوپر سے گھسیٹ کر قبرستان تک لے جایا گیا۔

گولڈ نے 2015 کے اواخر اور 2016 کے اوائل میں گیلینا میں چھ ہفتے گزارے۔ یہ علاقہ قطبِ شمالی سے صرف 130 کلومیٹر دور واقع ہے۔ انھوں نے یہاں کی تصویر کشی کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل کیمروں کی بجائے ایک ایسے فلم کیمرے کو ترجیح دی جو 1930 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔

گولڈ کی تصاویر میں اس برفانی علاقے کی لوگوں کی مشکل زندگیاں اور ان کی ذاتی داستانوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

جیک پوگریسبنسکی

میں 1986 میں کام کی تلاش میں الاسکا آیا تھا۔ یہاں آتے ہی مجھے ایڈونچر کا سامنا کرنا پڑ گیا اور میں کوئی کام نہیں کر سکا۔ میں اور میری دوست ایگل کے علاقے تک گئے۔ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ ہم نے ایک کشتی بنائی اور یوکون دریا میں اسے چلاتے ہوئے گیلینا تک آ گئے۔

میری دوست امید سے تھی۔ مجھے کام کی ضرورت تھی اس لیے ہم نے گلیلینا میں ایک شراب خانہ کھول لیا۔

ورجینیا جانسٹن

میں 1927 میں نولاٹو میں پیدا ہوئی تھی اور مجھے فوراً ہی گود لے لیا گیا تھا۔

مجھے کبھی معلوم نہیں ہو سکا کہ میرے اصل والدین کون تھے۔ مجھے سکول میں پتہ چلا کہ میں گود لی گئی ہوں۔

مجھے 1940 میں ہولی کراس میں ایک کیتھولک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ اس کے بعد میری شادی ہو گئی۔ میرے کل 14 بچے پیدا ہوئے، جن میں صرف چھ زندہ ہیں۔

میرے 103 پوتے پوتیاں ہیں جو الاسکا کے مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ میری دو پڑ پڑپوتیاں بھی ہیں۔

اینڈریو ہنٹنگنٹن

میں الاسکا کے گاؤں تانانا سے یہاں آیا ہوں۔ میرے والد نصف سفید فام اور نصف آتھاباسکان (مقامی ایسکیمو) تھے۔ وہ کان کن تھے۔ میری ماں مکمل آتھاباسکان ہیں۔

میں نے ٹیلی ویژن پر کتوں سے چلنے والی برف گاڑیوں کی ریس دیکھی اور مجھے بھی اس کا شوق ہو گیا۔ میں نے آٹھ سال پہلے خود بھی ان دوڑوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ میں اس کھیل میں حصہ لینے والا پہلا بہرا شخص ہوں۔

کیمرون ریٹن

میں کالج میں طبی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکوں۔

میری اونی ٹوپی میری دادی نے تیار کی ہے۔ میرے جوتے سیل اور اودبلاؤ کی کھال سے بنے ہوئے ہیں۔ یہ دو سال سے میرے پاس ہیں۔

ہماری لکڑی کا کیبن اندر سے خستہ ہو چکا ہے اس لیے ہم اب اس میں نہیں رہتے۔

ٹم بوڈونی

یہ سائیکل میرے پاس پچھلے 20 برسوں سے ہے۔ اسے میں نے ریاست الی نوئے سے خریدا تھا۔

میرے دستانے ’آوارہ کتے‘ کہلاتے ہیں کیوں کہ جب بعض اوقات کتے انھیں دیکھ کر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ شاید انھیں کتے سمجھتے ہیں۔

یہاں شدید سردی کی وجہ سے دستانے بےحد ضروری ہیں۔ یہاں رہنے کے لیے مناسب لباس انتہائی اہم ہے۔

جو ہنڈورف

میں نے 2012 میں یہ دکان شروع کی، اس میں اندازاً 20 ہزار اشیائے فروخت موجود ہیں۔ میں مچھلیاں کاٹنے والے چاقو بھی بیچتا ہوں۔ یہ گولیاں 0.22 کیلیبر کی ہیں اور انھیں مرغابیوں کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بریڈ سکوٹن

میں شکاری ہوں اور میں نے یہ کام نو برس کی عمر سے شروع کیا تھا۔ میں ریاست آئیوا کا رہنے والا ہوں۔

اب بہت کم لوگ ایسے ہیں جو پھندا لگا کر شکار پکڑتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمام الاسکا میں کل ملا کر پانچ ہزار شکاری ہوں گے۔

تصاویر: ایڈ گولڈ