آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیلیفورنیا کی خوفناک آگ: ’موت مجھ سے بس تین منٹ دور تھی‘
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی آگ کے نتیجے میں جہاں وسیع علاقے میں مالی نقصان ہوا ہے وہیں ہلاک ہونے افراد کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی تاریخ کی مہلک ترین آگ کے نتیجے میں 228 افراد لاپتہ ہیں جبکہ آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 72 سو املاک تباہ ہو گئی ہیں جبکہ دیگر ساڑھے 15 ہزار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
آگ کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ لوگوں کو ہنگامی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی ہے اور محفوظ پناہ گاہوں پر پہنچنے والے متاثرین نے آگ لگنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں اپنی روداد بیان کی ہے۔
’موت سے تین منٹ کا فاصلہ‘
جمعے کی صبح جب ولیم ہاٹ نیند سے بیدار ہوئے تو انھیں اس وقت تک کچھ بھی غیر معمولی نہیں لگا جب تک انھوں نے مرکزی دروازہ نہیں کھولا۔
ویلیم کے مطابق’ میں نے باہر بہت زیادہ دھواں دیکھا۔ ہم پیراڈئز میں رہتے ہیں اور یہاں ہر ایک کے گھر میں چمنی ہے لیکن جب نے کالے اور بھورے رنگ کے دھویں کو دیکھا تو ہمیں اندازہ کہ یہ چمنی سے نکلنے والا دھواں نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو اس صورتحال میں ولیم اور ان کے ساتھ کمرے میں رہنے والے ساتھی نے فوراً وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا اور جلدی جلدی میں طے کرنا تھا کہ کیا کیا ساتھ لے کر جائیں۔
ولیم کے مطابق ان کی روم میٹ نے اپنے آنجہانی شوہر کی راکھ کو پکڑا لیکن ساتھ میں اس نے خود سے سوال کیا کہ وہ یہ کیوں کر رہی ہے کیونکہ اسے تو پہلے ہی جلایا جا چکا ہے۔
اسی دوران ولیم نے اپنا کیمپنگ بیگ اٹھایا کیونکہ وہ مادیت پسند نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ سامان نہیں ہوتا۔
ولیم کے مطابق جب وہ گلی میں نکلے تو پیچھے کچھ نہیں بچا تھا۔
ان کے مطابق بس وہ بال بال بچے۔ ’موت اور مجھ میں بس تین منٹ کا فاصلہ تھا۔‘
ولیم نے آگ سے بچ کر نکلنے کی ویڈیو فیس بک پر نشر کی ہے لیکن ان کے پاس کچھ ایسی فوٹیج تھی جو ان کے خیال میں پوسٹ کرنے کے لیے بہت خوفناک تھی۔
’آگ میں جل کر سیاہ ہونے والے انسانی باقیات کو ویڈیو سے حذف کیا اور ایسے جانوروں کی ویڈیو جن کے جسم کو آگ لگی ہوئی تھی اور وہ آگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میرے خیال میں وہ کتے تھے۔ کاریں لوہے کا ڈھیر بن گئیں اور ہڈیاں دیکھائی دیں۔‘
’30 فٹ بلند آگ کے شعلے‘
جوزف میٹ کالف نے جمعرات کی درمیانی شب اپنے بچوں کو نیند سے اٹھایا اور انھیں بتایا کہ یہاں سے ابھی محفوظ پناہ پر جانا ہو گا۔
جوزف کے بقول انھوں نے اسے تفریح کے طور پر لینے کی کوشش کی لیکن ’وہاں سے نکلتے ہوئے ہم آگ کے 30 فٹ بلند شعلوں کے قریب سے گزرے اور آگ کی شدت اتنی تھی کہ پہاڑوں کو بھسم کر رہی تھی۔
’اس آگ کی شدت بالکل مختلف تھی اور یہ بغیر کسی تفریق کے پھیل رہی تھی اور اس نے مجھے زندگی اور ہمارے پاس موجود چیزوں کی قدر و قیمت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔‘
’آپ سوچیں گے نہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہو سکتا ہے‘
15 سالہ اینبل لوئس اور ان کی والدہ می فوربز پیراڈئیز کے علاقے سے پانچ منٹ کی مسافت پر رہائش پذیر تھے اور جب می نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کیا تو اپنے مکان کی جانب بھاگیں تاکہ خاندان کے پاس پہنچ سکیں۔
’میں صرف اپنے خاندان کو محفوظ دیکھنا چاہتی تھی۔ جب آگ ان کے مکان کے پاس پہنچی تو اس وقت خاندان نے چند چیزیں جمع کیں اور وہاں سے چیکو کی جانب روانہ ہوئے لیکن جلد ہی آگ ان کے قریب پہنچ گئی جس کے نتیجے میں وہ ریڈنگ کی جانب جانے پر مجبور ہو گئے۔
اینبل لوئس نے بی بی سی کو بتایا کہ’ صورتحال اب بھی خوفزدہ کر دینے والی ہے اور وہ اب بھی آپ بیتی کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ میں اس یقین کروں جب تک اپنے گھر واپس نہیں جاتی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ حقیقی نہیں ہے۔ آپ اس کو خبروں میں دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ آپ کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ابھی کوئی اندازہ نہیں ہے کہ واپس گھر کب جائیں گے کیونکہ وہاں آگ اب بھی ہمارے علاقے کو جلا رہی ہے اور ہم اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ ہمارا گھر بچا ہے کہ نہیں۔