کولوراڈو فائرنگ: امریکی شہر بولڈر کی مارکیٹ میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 10 افراد ہلاک، حملہ لائیو سٹریم کیا گیا

مطالعے کا وقت: 3 منٹ

امریکی ریاست کولوراڈو کی پولیس نے بتایا کہ ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے مارکیٹ میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین کی جانب سے واقعے کو یوٹیوب پر لائیو سٹریم کیا گیا۔

کئی گھنٹوں کے محاصرے کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو کنگز سپر مارکیٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ وقوعہ مقامی وقت کے مطابق پیر کو دن ڈھائی بجے شروع ہوا جب مشتبہ شخص گروسری سٹور میں داخل ہوا اور فائرنگ شروع کر دی۔

اس کے 20 منٹ بعد بولڈر پولیس نے ٹویٹ کی کہ ایک سٹور مییں گولیاں چلنے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دو گھنٹے بعد پولیس نے لوگوں کو دوبارہ خبردار کیا کہ وہ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں اور اسے سوشل میڈیا پر نشر نہ کریں خاص طور پر ایسے وقت پر جب پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی کی جا رہی ہو۔

تاہم کچھ راہگیروں نے وہاں سے گزرتے ہوئے گروسری سٹور پر حملے کا نشانہ بننے والے افراد کی ویڈیو بنائیں۔

ایک ویڈیو میں کیمرہ مین چلا رہا ہے: ’یہاں گولیاں چل رہی ہیں، یہاں سے نکلو۔‘

جب ویڈیو بنانے والا شخص دکان سے دور بھاگتا ہے تو گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو چلتی رہتی ہے اور پولیس کے وہاں پہنچنے اور عمارت کو گھیرے میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بعدازاں ہیلی کاپٹر سے فلمبند کیے گئے مناظر میں دکھائی دیتا ہے کہ شارٹس پہنے ایک شخص کو پولیس ہتھکڑیاں پہنا کر لے جا رہی ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بولڈر پولیس کی چیف میرس ہیرولڈ نے تصدیق کی کہ حملہ آور پولیس کی حراست میں ہے اور اس وقت زیر علاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں کمیونٹی کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وہ محفوظ ہیں۔'میرس کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار 51 سالہ ایرک ٹیلی ہیں جو 2010 سے بولڈر پولیس میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ بولڈر پولیس کی سربراہ کے مطابق ایرک نے بہادری کے ساتھ جائے وقوعہ سے پولیس کو باخبر رکھا اور اس علاقے میں ہونے والی فائرنگ اور گن تھامے وہاں گھومنے والے شخص کے بارے میں اطلاع پہنچائی۔ ایرک وہ پہلے افسر تھے جو موقعے پر پہنچے مگر حملہ آور نے انھیں گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

میرس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہیں اور اس میں کم از کم پانچ دن لگ سکتے ہیں۔ پولیس نے اس وقت تک متاثرین کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک کہ ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کو اس بارے میں مطلع نہیں کر دیا جاتا۔

حکام کے مطابق اس واقعے سے متعلق صدر جو بائیڈن کو بریفنگ دے دی گئی ہے۔گذشتہ ہفتے امریکی صدر نے کہا تھا وہ اسلحے کے خواہشمند افراد کے لیے سخت قانون سازی اور جانچ کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔ خیال رہے کہ فائرنگ کے واقعات کے بعد امریکہ میں اسلحے سے متعلق قانون ساز پر بحث زور پکڑ جاتی ہے۔ کولوراڈو میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، جس میں سب سے خوفناک 2011 میں ایک سنما میں گھس کر ایک گن مین نے بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کر دیا تھا۔لائیو سٹریم

بی بی سی کے شایان سردارزادے کے مطابق یوٹیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ پرتشدد مواد کی اپنے پلیٹ فارم پر اجازت نہیں دیتے تاہم اگر کسی مواد کا خبری یا دستاویزی پسمنظر ہو تو اس کی اجازت دی جاتی ہے۔

یوٹیوب کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو کو 18 برس سے کم عمر افراد کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ویب سائٹ اس معاملے کی مسلسل نگرانی کر رہے ہے۔