ہلری کلنٹن: مشرق وسطی کا نازک دورہ

مشرق وسطی کے انتہائی پیچیدہ سیاسی حالات کے پس منظر میں امریکہ کی نئی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اتوار کو مصر پہنچیں ہیں۔
ان کے دورے کا بڑا مقصد غزہ کی تعمیر نو کے کے لیے ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنا ہے لیکن مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں ہونے والی اس کانفرنس کے دوران وہ عرب راہنماوں سے ملاقاتیں بھی کریں گی۔
ہلری کلنٹن اس کانفرنس میں شرکت کے بعد اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ بھی کریں گی اور جہاں وہ دونوں طرف کے راہنماؤں سے ملاقاتوں کے علاوہ طالب علموں سے بھی ملیں گی۔
امریکہ کی وزیر خارجہ مشرق وسطی میں اجنبی نہیں ہیں جہاں پر وہ بہت سے پرانے کرداروں کو سٹیج پر دیکھیں گی۔
اپنے شوہر کے دورۂ اقتدار میں امریکی خاتون اول کی حیثیت میں وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کر چکی ہیں اور بہت حد تک وہ اس مسئلہ کے تانے بانے وہیں سے جوڑیں گی جہاں پر ان کے شوہر نے سن دو ہزار میں چھوڑے تھے اور وہ امن معاہدہ کرانے میں ناکام رہے تھے۔
انیس سو ننانوے میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی بیوی سوہا سے گلے ملنے کی قیمت انہیں نیویارک سے سینیٹ کے انتخاب میں ناکامی کی صورت میں ادا کرنا پڑی تھی۔
بعد ازاں نیویارک سے ہی یہودی ووٹوں کی بنیاد پر سینیٹر منتخب ہو کر انہوں نے فلسطین کے بارے میں زیادہ سخت پالیسی اختیار کر لی جس پر یہودی لابی 'اے آئی پی اے سی‘ کی طرف سے کئی مرتبہ تعریف بھی کی گئی۔
اسرائیلی، عرب اور مشرق وسطی کے امور پر نظر رکھنے والے اس دورے کے دوران ان کی زبان سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ کا بغور جائزہ لیں گے اور یہ تعین کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ وہی ہلری کلنٹن ہیں جنہوں نے یاسر عرفات کی بیوی کو گلے لگایا تھا یا یہودیوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والی نیویارک کی سینیٹر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کا کہنا ہے کہ پندرہ سال بعد ان دو انتہائی پوزیشن کا درمیانی راستہ اختیار کرنا آسان ہو گا کیونکہ اب علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا عام ہو گیا ہے۔
تاہم زمینی صورت حال اب بھی اتنی ہی پیچیدہ ہے۔
انیس سو پچانے میں ان کے اس بیان نے کہ خطے میں قیامِ امن کے لیے فلسطینیوں کو ایک جدید اور فعل ریاست قائم کرنا کا حق دیا جانا چاہیے جس شخص کو ناراض کیا تھا آج پھر اسرائیل میں وہی شخص اقتدار میں آ چکا ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے بنیامن نیتھنیاہو نے کہا تھا کہ اس تجویز پر ان کا موقف بہت واضح ہے جس کے بعد واہٹ ہاؤس کے حکام کو کہنا پڑا تھا کہ مسز کلنٹن انتظام کی سرکاری پالیسی کی بات نہیں کر رہی تھیں۔
نامزد وزیر اعظم کی حیثیت سے بنیامن نیتھنیاہو آج فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تو تیار ہیں لیکن وہ دو ریاستی حل کو پہلے سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جس پر امریکہ انیس سو ترانوے کی اوسلو کانفرنس کے بعد سے زور دیتا رہا ہے۔
مسز کلنٹن کو یاد ہو گا کہ جب ان کے شوہر اور بیامن نیتھنیاہو اقتدار میں تھے تو اس زمانے میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے۔
انیس سو چھانوے میں بنیامن نےجنہیں بی بی بھی کہا جاتا ہے بل کلنٹن سے اپنی پہلی ملاقات میں انہیں اسرائیل فلسطین تنازع پر لیکچر دینا شروع کر دیا تھا جس پر بل کلنٹن نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ اس کا ذکر مشرق وسطی کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی ایرون ملر نے اپنی کتاب 'مچ ٹو پرومسڈ لینڈ‘ میں کیا ہے۔
نئی امریکی انتظامیہ جس میں سابق کلنٹن دورے کے کئی اہلکار شامل ہیں بنیامن نیتھنیاہو سے معاملات طے کرنے کے بارے میں خدشات کا شکار ہوں گے۔

لیکن مسز کلنٹن اس دورے میں اسرائیل کی اندرونی سیاست میں ملوث ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ وہ اس دورے میں صرف موجودہ راہنماؤں سے ملاقات کریں گی جن میں ایہود اولمرت اور وزیر خارجہ زپی لیونی شامل ہیں۔
واشنگٹن سے روانگی سے قبل انہوں نےکہا تھا کہ اسرائیل ایک نازک سیاسی دورے سے گزر رہا ہے اور وہ اس دورے کے دوران صرف امریکہ اور اسرائیل کے مضبوط تعلقات کے حوالے اور امن کے عمل کو احسن طریقے سے آگے بڑھانے پر بات کریں گے۔
واشنگٹن میں نیو امریکی فاونڈیشن کے فیلو اور سابق اسرائیلی مذاکرات کار ڈینیل لیوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل دورے کے دوران مسز کلنٹن صرف سننے کی حالت میں ہوں گی۔
ڈینیل لیوی کے مطابق جو کچھ بھی وہ کہیں گی اس کا اثر مذاکرات پر پڑے گا اس لیے وہ کم سے کم بات کریں گی جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہاں جانے کی ضرورت کیا ہے۔





















