ہلیری غربِ اردن کے دورے پر

ہلر، شمعون پیری
،تصویر کا کیپشنہلری نے یروشلم میں شمعون پیریز سے بھی ملاقات کی

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بدھ کو غرب اردن میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس سے ملاقات کر رہی ہیں۔

ان کی یہ ملاقات اوبامہ انتظامیہ کے کسی اعلٰی اہلکار کے پہلے دورۂ مشرقِ وسطٰی کا حصہ ہے۔

اس سے قبل منگل کو ہلیری کلنٹن نے یروشلم میں اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے ملاقات میں اسرائیل کی 'غیر متزلزل‘ حمایت کا اعادہ کیا۔وہ اپنے دورے کے دوران متوقع وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور موجودہ وزیراعظم ایہود اولمرت سے بھی ملاقات کریں گی۔

شمعون پیریز سے ملاقات کے بعد ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ کی اسرائیل کے لیے 'غیر متزلزل، پائیدار اور اہم‘ حمایت کا اعادہ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم اسرائیل کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے لوگوں کی جمہوری خواہشات کی نمائندگی کرتی ہے‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ امریکی نئی انتظامیہ کے دو اہلکاروں کو مذاکرات کے لیے شام روانہ کیا جا رہا ہے۔ ہلری کلنٹن نے کہا کہ دو اعلیٰ اہلکاروں کو شام بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ شام اور امریکہ کے درمیان بہت سے اختلافی معاملات اور خطے میں شام کی پالیسیوں پر پائے جانے والے خدشات پر بھی بات کر سکیں۔

امریکہ نے شام پر دہشت گردوں کی مدد کرنے اور اپنے عرب ہمسایہ ملکوں میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کئی برس سے اس سے ہر قسم کے روابط منقطع رکھے ہیں جبکہ شام اور اسرائیل کے درمیان گولان کی پہاڑیوں کے بارے میں بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دورہ کرنے سے پہلے مصر گئی تھیں جہاں انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ہونے والی کانفرنس میں نوے کروڑ ڈالر کی مدد کا اعلان کیا تھا۔