عراق سے انخلاء کے منصوبے کا اعلان

امریکی صدر باراک اوباما
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما کے فیصلے پر ان کی جماعت کے سیاست دانوں نے شدید تنقید کی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے اگست سنہ 2010 تک عراق میں موجود امریکی فوج کے ایک بڑا حصے کے انخلاء کا اعلان کیا ہے۔

شمالی کیرولینا میں میرین کورپس کے اڈے، کیمپ لیجوین، کے دورے کے دوران امریکی صدر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت تک عراق میں امریکی ’کمبیٹ مشن‘(لڑنے والی فوج) سرکاری طور پر ختم ہو جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ بیالیس ہزار سے کم ہو کر قریباً پچاس ہزار رہ جائے گی جو عراقی فوج کی مشاورت اور امریکی مفادات کا تحفظ کرے گی اور 2011 تک عراق چھوڑ دے گی۔

صدر اوباما نے عراق میں ترقی کی تعریف کی لیکن ساتھ ساتھ خبردار کیا کہ 'عراق ابھی محفوظ نہیں ہے اور آگے مشکل دن بھی آئیں گے۔‘

صدر اوباما نے تقریر کے دوران عراق کی جانب منہ کرکے عراقیوں کو براہ راست خطاب کیا اور کہا کہ ’میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ امریکہ آپ کی زمین پر یا آپ کے وسائل پر کوئی حق نہیں جتاتا۔ ہم آپ کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں، آپ نے اپنے ملک کے لیے جو عظیم قربانیاں دی ہیں ان کا احترام کرتے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا عبوری دور وجود میں آجائے جس میں عراق اپنے تحفظ کی ذمہ داریاں خود سنبھال سکے۔‘

صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ اگر صدر بنے تو سولہ ماہ کے عرصے کے دوران عراق سے امریکی فوج واپس بلا لیں گے۔

بی بی سی کے مدیر برائے شمالی امریکہ جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ اس برس عراق سے صرف دو بریگیڈ فوج کی واپسی ہو تاہم دسمبر میں انتخابات کے بعد اس عمل میں تیزی آئے اور سنہ 2010 کے موسمِ گرما تک عراق میں امریکی فوج کی تعداد کم ہو کر پچاس ہزار کے لگ بھگ رہ جائے۔

تاہم کچھ ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے عراق میں پچاس ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں اور امریکی سپیکر نینسی پلوسی نے بھی کہا ہے کہ کسی ملک میں پچاس ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے اور اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ صدر اوباما نے جمعرات کو 2010 کے لیے تین اعشاریہ چھ ٹریلین ڈالر کے بجٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پیشین گوئی کی ہے کہ رواں برس میں بجٹ خسارہ پونے دو ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ ہوگا جو کہ نہ صرف سالانہ امریکی پیداوار کے بارہ اعشاریہ تین فیصد کے مساوی ہے بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے زیادہ بھی ہے۔