اراقی بیوائوں کا کوئ پورسانے حال نہیں

نادیا
،تصویر کا کیپشن ”یہ خواتین کا مرکز ہی اب اس کا گھر ہے"

تینوں بھائیوں صمید اُس کا شوہر مر چا کا ہے۔ اس سے پہلے اس کے والدین مارے جا چکے ہیں اور اسی دورانً اُس کا بچا مرا ہوا پیدا ہوا۔

مگر انے والے دنوں میں نادیا حسین کو اس سے کہیں اور زیادہ مشکلت کا سامنہ کرنا تھا۔ اب وہ بیچ بغداد شہر میں واقے ایک خواتین کے مرکز میں پناہ گوزیر ہے اور اپنا وقت اب کھنا پکا کر اور کبوتروں کو دانے سے کر صرف کتی ہے۔

یہ مرکز ایک ایسی جائےپناہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں پرنادیا جیسی پہت سی عراقی بیوائں اپنے اپ کو مھفوض سمجھ سکتی ہیں۔

اس نے بتایا کہ: ` میرے شوہر کے مر نے کے بیعد مچھے بحیثیت ملازمھ ایک گھر میں نوکری ملی۔ یہاں پر ایک آدمی اور اس کے بھائی نے مچھے جنسی شدد کا شکار بنانے کی کوشش کی اور میرے بھتیجے نے جو شراب کا عادی ہے مجھے مارا پیڑا اور علط الزام لگائے۔

نادیا کا اب کہنا ہے کہ یہ خواتین کا مرکز ہی اس کا گھر ہے اور اس کے لوگ اس کے اہل وعیال۔ مگر پر بھی وہ ہر کام کرنے سے پہلے یا باہر جانے سے پہلے ان سے اجازت لیتی ہے۔

اس کے پہ کہانی عراق میں غیر معمولی نہی۔ صحی ادادو شمعار مشکل سے فراہم ہیں مگر جنگی مداخلت سے پہلے دسیوں ہزار عورتیں عرا ق میں بیوگی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ انیس سو آسی کی دہائی میں بہت سی عورتوں نے اپنے شوہر گواں دیے۔ گزشتہ سالوں میں جب حالیہ جنگ اپنے زوروں پر تھی تقریبنً ایک دن میں ایک سو کی تعداد میں عورتیں بیوہ ہوتی تھیں۔

اب بعداد میں جہاں بھی جاو اسی عورتیں کبھی مسجدوں کے سامنے تو کبھی سڑکوں پر ٹریفک لئٹ کے قریب سر سے پاوں تک نقاب میں بھیک مانگتی نظر آتی ہیں۔

ان عورتوں کو حکومت سے فی دن ایک ڈالر ملتا ہے۔ مگر خیراتی ادارہ اکسفیم کا بلکہ کھنا ہے کہ یہ مدد صرف ایک چوتھائی سے بھی کم عورتوں کو مویسر ہے۔

ان میں سے کئ عورتیں مرنے کے لیے تیار ہیں، عراق میں پیشتر خودکش ہملوں میں عورتں بھی ملوث رہی ہیں۔

حارت
،تصویر کا کیپشنمیرے شوہر کی خواہش تھی کہ میں خودکش حملہ آور بنوں

امِ حارت کو اس کی ٹرینگ دی گی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ: ” میرے شوہر کے مرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اکیلہ محسوس کیا۔ میرے شوہر کی بلکہ خواہش تھی کہ میں خودکش حملہ آور بنوں۔ اس کے جانے کے بعد میں بھی چاہتی تھی کہ میں بھی ان لوگوں سے سب کچھ چھن لوں جنہوں نے مچھے سے میری عزیز تریں چیز لے لی۔”مگر اس کے پر عکس زیادہ تر بیوہ عورتیں اس طرح سے بدلہ نہیں لینا چاہتں۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ہنا ادوار کا کہنا ہے کہ عراق میں جو عورتیں جنسی تجارت کرنے پر مجبور ہیں ان میں سے چالیس فیصد عورتیں بیوہ ہنبے کے بعد اس پشہ کی طرف رخ کیا ہے۔

بغداد میں اسی جگاہیں کم ہیں جہاں عورتیوں کو مدد فراہم ہے۔ ایک ایسا سنٹر ضرور ہے جہاں تکنیکی اور نرسنگ سے منسلک ملازمت تلاش کرنے کی صلاحیتیں سکائی جاگتی ہیں۔ لیکن ان عورتوں کو درکار مشکلات اس قدر طویل ہیں کہ اس قسم کے حل بےمعنی سے نظر آنے ہیں۔