امریکی ایران پالیسی

اوباما اور خامنائی
،تصویر کا کیپشنسینیئر سفارتکار نے بتایا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ آیت اللہ خامنائی کو ایران کے انتخابات سے پہلے خط بھیج دیا جائے گا۔
    • مصنف, کم گھتاس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

مغربی سفارتکاروں اور امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پالیسی میں ایران کی طرف مفاہمتی اقدامات شامل ہوں گے تاکہ دونوں ممالک میں رابطہ قائم ہو سکے اور اس کے علاوہ شائد ایران کے سب سے بڑے رہنما آیت اللہ خامنائی کو ایک خط بھی لکھا جائے۔

ایک مغربی سینیئر سفارتکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ آیت اللہ خامنائی کو ایران کے انتخابات سے پہلے خط بھیج دیا جائے گا۔ لیکن امریکی حلیف ممالک یہ چاہیں گے کہ خط انتخابات کے بعد بھیجا جائے تاکہ انتخابات پر یہ خط اثر انداز نہ ہو۔

یاد رہے کہ اس قبل بھی ایران کو خط بھیجنے کی اطلاعات کی وہائٹ ہاؤس نے سختی سے تردید کی تھی۔

لیکن پچھلے ہفتے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ خط کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیں گے اور نہ ہی اس سلسلے میں مختلف آپشنز کی تفصیل میں جائیں گے۔ اس بیان کے بعد ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں وہائٹ ہاؤس سے رجوع کیا جائے۔

یاد رہے کہ اسی قسم کے ایک خط کا مسودہ سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں بھی تیار کیا گیا تھا لیکن بھیجا نہیں گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اگلے دس روز میں اس کے بارے میں کوئی اعلان ہونے کی توقع ہے کیونکہ ایران کے متعلق امریکی پالیسی تیار کرنے والے ڈینس راس جائزہ لے رہے ہیں۔

ڈینس راس کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد بھی یہ نہیں معلوم کہ ایران پالیسی کب منظرِ عام پر لائی جاتی ہے۔

کارنیجی اینڈومینٹ فار انٹرنیشنل پیس میں ایران کے حوالے سے ماہر کریم سجادپور کا کہنا ہے ’ایران کو اس بات کا علم ہے کہ اس کی علاقائی اثرورسوخ امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے ہے اور اس لیے ایران کی کوشش ہو گی کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تشہیر نہ کرے جب تک کہ کوئی پیش قدمی نہیں ہوتی۔‘

’ایرانی صدر احمدی نژاد کو اس صورتحال میں جبکہ ان کے حلیف امریکی مخالف ہیں اور ایرانی عوام امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اپنا رویہ متوازن رکھنا ہو گا۔‘

ایران کے ساتھ روابط کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کو اکتیس مارچ کو ہیگ میں ہونے والی افغانستان کے بارے میں کانفرنس میں حصہ لینے کی دعوت دی۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ دعوت نامے پر غور کر رہا ہے۔

مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی سفارکاروں کے ساتھ اپنے سفارتکاروں کی ملاقات پر عائد پابندی ختم کرنے کا سوچ رہا ہے تاکہ اس کے سفارتکار ایرانی سفارتکاروں کے ساتھ بھی اسی طرح مل سکیں جس طرح وہ دیگر ممالک کے سفارکاروں سے ملتے ہیں۔

سجادپور کا کہنا ہے ’واشنگٹن کو تہران کو صاف صاف بتانا ہو گا کہ امریکہ ایران کے ساتھ از سرِ نو اور نئے سیاق و سباق کے تحت تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کو خط لکھتا ہے تو آیت اللہ خامنائی ہی کو بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کو خط بھیجنے سے یہ اشارہ دیا جائے گا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ایران میں کون کس رتبے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط کو مواد بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس خط میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا ذکر نہیں ہونا چاہیے اور یہ صاف ظاہر ہونا چاہیے کہ واشنگٹن تہران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا۔

خامنائی
،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ خط آیت اللہ خامنائی کی بجائے منتخب صدر احمد نژاد کو بھیجا جائے

لیکن دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ خط آیت اللہ خامنائی کی بجائے منتخب صدر احمدی نژاد کو بھیجا جائے یا اگر وہ انتخابات میں ہار جاتے ہیں تو ان کی جگہ نئے منتخب صدر کو۔

امریکہ اور ایران تعلقات استوار کرنے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کب یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ بات چیت میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور اس کا کوئی مقصد نہیں؟

سفارتکار کا کہنا ہے ’بات چیت میں ایک موقع پر تو یہ کہنا ہو گا کہ اب کوئی فائدہ نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے دیے جانے والا وقت اسرائیل کی وجہ سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے حق میں ہے۔ اکثر یورپی سفارتکار اسرائیل کے مقاصد کو جواز بنا کر ایران پر دباؤ ّالتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جلد بات چیت شروع کرو۔