کس ایشیائی رہنما کی ویب سب سے اچھی؟
نیپال کے وزیراعظم پراچندا نے رسمی طور پر اپنی ویب سائٹ لانچ کر دی ہے جو ان کی مصروفیات، پالیسی اعلانات اور ماؤسٹ پارٹی کی خبروں پر مشتمل ہے۔
ان کی ویب سائٹ دوسرے ایشیائی رہنماؤں کے مقابلے میں اپنے ڈیزائن اور لے آؤٹ کے اعتبار سے کیسی ہے؟ بی بی سی نے یہ جاننےکے لیے دنیا بھر میں سیاستدانوں کی ویب سائٹس بنانے میں معروف ایک برطانوی کمپنی ٹربو ویب لمیٹڈ کے سینئر ویب کنسلٹنٹ کیتھ بلیک سے درخواست کی کہ وہ ان رہنماؤں کی ویب سائٹس کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
نیپالی وزیراعظم

ہمارے خیال میں ویب میں استعمال کیے گیے رنگ اگرچہ گہرے ہیں لیکن ان کا استعمال دلچسپ ہے۔ ویب کے کچھ عناصر بھی اپنی حتمی شکل میں نہیں ہیں جن کے وجہ سے ویب قدرے غیر پیشہ ورانہ محسوس ہوتی ہے۔ ویب پر انگریزی کے لیے جو بٹن دیا گیا ہے وہ ابھی کام نہیں کر رہا اور رابطے میں نہ تو رابطہ فارم ہے اور نہ ہی ضروری تفصیلات ہیں۔ تصاویر کے حصے میں ہلکے بوکسز کا استعمال عمدہ ہے۔ www.cmprachanda.com نمبر: مجموعی طور دس میں سے پانچ
صدر پاکستان

اس ویب کا ڈیزائن قدرے پرانے انداز کا ہے اور اب تک اس کا بڑا حصہ بنائے جانے کے مرحلے میں ہے۔ بائیں بازو پر بنے ہوئے بٹنوں کی مدد سے باآسانی ایک سے دوسرے صفحے پر جایا جا سکتا ہے۔ خبروں کے حصے کو کم و بیش باقاعدگی سے تازہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود رابطے کے لیے کوئی نمایاں طریقہ نہیں بتایا گیا۔ http://www.presidentofpakistan.gov.pk/ نمبر: مجموعی طور دس میں سے چار
افغان صدر

استعمال میں انتہائی آسان، رابطے کی مناسب معلومات، باآسانی قابلِ رسائی لنک، لیکن ویب پر دیے گئے افغانستان کے سفارتخانوں کے پتوں سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ ویب بناتے ہوئے بیرون ملک رہنے والوں اور بین الاقومی تقاضوں کو زیادہ پیش نظر رکھا گیا ہے اس کے علاوہ انگریزی کے امریکی ہجوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ویب بنانے میں امریکیوں کی مدد لی گئی ہے۔
http://www.president.gov.af نمبر: مجموعی طور دس میں سے پانچ
وزیراعظم بنگلہ دیش

دیکھنے میں اچھی اور استعمال آسان ویب سائٹ۔ رنگا رنگ ہیڈر، کوئی چیز غیر معمولی نمایاں نہیں، تلاش کے لیے انتہائی سہل انداز، رابطے کی تفصیلات اور ای میل کی بھی سہولت۔
http://www.pmo.gov.bd نمبر: دس میں سے سات
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر سری لنکا

انتہائی بصری انداز کی ویب سائٹ۔ ہیڈرز میں فلیش کا استعمال کیا گیا ہے۔ کچھ سکرول جازب نظر ہیں اور متوجہ کرتے ہیں۔ تاہم ویب پر اب تک نئے سال کی ابتدا پر نیک خواہشات کا اظہار کے لیے جاری کیا جانے والا پیغام موجود ہے۔ خاصی تصاویر کے ساتھ یہ ویب استعمال میں انتہائی آسان ہے۔
http://www.mahindarajapaksa.com نمبر: دس میں سے چھ
وزیراعظم انڈیا

خاصی سست، لگتاہے کہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ پیغام کہ 'انٹرنِٹ ایکسپلورر فائیو اور اس کے بعد والوں کے لیے زیادہ مناسب‘ خود ہی بتا دیتا ہے کہ کتنی توقعات رکھی جانی چاہیں۔ اس کے باوجود یہ سائٹ استعمال میں آسان ہے اور اس پر رابطے کے تمام نمبر دیے گئے ہیں لیکن انڈیا جیسا ملک جسے آئی ٹی میں خاصا آگے سمجھا جاتا ہے اس سے بہتر کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
http://pmindia.nic.in نمبر: دس میں سے چھ
صدر مالدیپ

بجا طور پر جاذب نظر اور مناسب طور پر اپ ڈیٹ کی جانے والی ویب سائٹ۔ ملازتوں کے مواقع کی تفصیلات سمیت تمام ضروری معلومات، ڈاؤن لوڈ کیے جا سکنے والے نقشے اور تازہ ترین تقریریں لیکن رابطے کے فارم کی کوئی نمایاں علامت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ای میل یا فون نمبر ہے۔
http://www.presidencymaldives.gov.mv نمبر: دس میں سے سات
بھوٹانی حکومت

دلچسپ رنگوں کے ساتھ ایک جاذب نظر ویب سائٹ جو پہلے ہی صفحے سے عمدہ دکھائی دیتی ہے۔ مزید دلچسپ یہ کہ نہ تو شاہ اور نہ ہی وزیراعظم کی الگ اور انفرادی ویب سائٹ ہے۔ حکومتی سائٹ پر خاصی مفید معلومات یہاں تک کہ بچوں کے کھیل بھی موجود ہیں لیکن کچھ لنک اتنے نمایاں نہیں ہیں جتنے کہ وہ ہونے چاہیں۔ تاہم ڈاؤن لوڈ صفحات پر کچھ معمولی غلطیاں بھی ہیں۔
http://www.bhutan.gov.bt نمبر: دس میں سے سات
کیتھ بلیک کا تبصرہ
جنوبی ایشیا میں بالعموم اور انڈیا میں بالخصوص جس نوع کی تکنیکی مہارت پائی جاتی ہے اس کے پیش نظر یہ تمام سائٹس خاصی متاثر کن ہیں لیکن اتنی بھی اچھی نہیں ہیں جتنی کہ انہیں ہونا چاہیے ان کے براؤزر خاصے تنگ ہیں جس کی وجہ سے خاصی خالی جگہیں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ویب پر ویڈیو کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ممکن ہے اس کے وجہ یہ ہو کہ دنیا کے اس خطے کے سیاستدانوں کو ابھی لوگوں سے رابطے میں انٹرنٹ کی اہمیت کا ابھی درست اندازہ نہیں ہے۔ اس وقت تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ویب سائٹ اپنے وقت کے اعتبار سے یورپ اور امریکہ سے دو تین سال پیچھے ہیں لیکن جس رفتار سے اس میدان میں یہ خطہ ترقی کر رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ صورت زیادہ عرصے برقرار نہیں رہے گی۔






















