کوئٹہ طالبان کا ہیڈکوارٹر ہے: ہالبروک

افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے ایلچی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور کوئٹہ میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ کوئٹہ طالبان اور دنیا کے بدترین لوگوں کا ہیڈکواٹر ہے۔ بدترین لوگوں میں بیت اللہ محسود ایک ہیں۔
<link type="page"><caption> افغانستان سے انخلاء کا پروگرام بھی ضروری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/03/090323_obama_afghanexit.shtml" platform="highweb"/></link>
انہوں نے کہا ’اس وقت بھی کوئٹہ میں مغرب اور علاقے میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔‘
پاکستان میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں رچرڈ ہالبروک نے کہا:’یہ انتہائی خراب ہے لیکن آپ پاکستان میں فوجیں نہیں بھیج سکتے ہیں۔ یہ سرخ لائن ہے۔‘
امریکی ایلچی نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا کہ امریکہ ڈرون حملوں کا دائرہ کوئٹہ تک وسیع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ابھی تک امریکی ڈرون حملے پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود رہے ہیں۔
رچرڈ ہالبروک نے پاکستان ایجنسیوں کی مبینہ ڈبل گیم کے بارے میں کہا ’ہم نے بھی اس بارے میں سنا ہے۔ ہم نے پاکستانی حکام سے بات بھی کی ہے۔اگر اس میں کسی حد تک بھی سچائی ہے تو یہ بہت تشویش ناک بات ہو گی۔‘
طالبان سے بات چیت کے بارے میں امریکی سفیر نے کہا کہ انہیں متضاد اطلاعات ہیں کہ ملا عمر بھی بات چیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں طالبان کی جیت کے حوالے سے امریکی ایلچی نے کہا کہ طالبان شہروں پر کنٹرول نہیں کرسکتے جس طرح افغان حکومت دیہاتوں میں زیادہ موثر نہیں ہے۔’نہ تو طالبان جیت رہے ہیں نہ ہی نیٹو۔‘
انہوں نے افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی کارروائیوں کے بارے میں کہا کہ یہ ایسے ہی ہے کہ اپ پانی میں مکا ماریں اور جب مکا پانی سے باہر نکالتے ہیں تو پانی دوبارہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔
امریکی سفیر نےافغانستان میں انتخابات کے بارے میں امریکہ کے غیر جانبدار رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم افغان انتخابات میں سب کے لیے برابری کے مواقع چاہتے ہیں۔ پچھلے انتخابات میں امریکہ نے صدر حامد کرزئی کی حمایت کی تھی۔
افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے امریکہ کی تازہ پالیسی تیار ہو چکی ہے اور وہ صدر براک اوباما کی میز پر موجود ہے۔
امریکہ کے افغانستان آپریشن کو کم کرنے سے متعلق ایک سوال پر رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ یہ صرف صحافتی اصطلاح ہے۔ انہوں نے کہا ’ماضی میں افغانستان سے غفلت برتی گئی جو اب نہیں ہو گی۔‘
رچرڈ ہالبروک نے زور دے کر کہا کہ افغانستان میں مزید فوجیں بھیجی جائیں گی اور مزید وسائل درکار ہوں گے۔



















