امریکہ بھی ذمہ دار ہے: کلنٹن

ہلری کلنٹن دو روزہ دورے پر میکسیکو پہنچی ہیں
،تصویر کا کیپشنہلری کلنٹن دو روزہ دورے پر میکسیکو پہنچی ہیں

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ میکسیکو میں منشیات کےغیر قانونی کاروبار اور تشدد کی کچھ ذمہ داری امریکہ کو بھی قبول کرنی چاہیے۔

میکسیکو پہنچنے پر امریکہ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ میں منشیات کی نہ ختم ہونے والی مانگ اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنے میں ناکامی سے پرتشدد کارروائیوں کو ہوا مل رہی ہے۔

امریکہ میں اوباما انتظامیہ کی طرف سے سرحد پر سیکیورٹی اقدامت کو بہتر بنانے کے اعلان کے ایک دن بعد ہلری کلنٹن دو روزہ سرکاری دورے پر میکسیکو پہنچی ہیں۔

میکسیکو میں گزشتہ دو برس میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے باعث ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں آٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر سیکیورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنانے، امریکہ سے اسلحہ کی سمگلنگ کو روکنے اور امریکہ میں منشیات کی مانگ کو کم کرنے پر ستر کروڑ امریکی ڈالر خرچ کیئے جائیں گے۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ ’امریکہ سے اسلحہ میکسیکو سمگل کیا جاتا ہے جو کہ منشیات کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور یہ پولیس افسران اور اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بنتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ امریکہ کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ منشیات پر پابندی لگانے کے لیے اب تک کی جانے والی حکومتی کوششوں میں ناکامی کی وجہ سے منشیات کا کارروبار بند نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا ’واضح طور پرہم جو کچھ کر رہے تھے وہ کارگر ثابت نہیں ہوا اور یہ ناانصافی ہو گی کہ اگر ہماری اس ناکامی سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کا ذمہ دار لوگ میکسیکو کی حکومت اور عوام کو قرار دیں۔‘

میکسیکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن گبز کا کہنا ہے کہ میکسیکو بار ہا ایسے الزامات عائد کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پیسے سے پنپنے والے پرتشدد جرائم کا شکار ہے۔

میکسیکو کے وزیر خارجہ پیٹریشیا ایسپنوسا کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ہلری کلنٹن نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو مل کر ایک مشترکہ مستقبل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ ان کی میکسیکو کے وزیر خارجہ کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نے میکسیکو کے صدر فلپ کلدیرون کی منظم جرائم کے خلاف جرت کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ اور ان کے سرغنہ عناصر تشدد پھیلا رہے ہیں تاکہ قانون، معاشرے میں امن، دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور اعتماد کی بنیادوں کو ہلا دیا جائے۔