جی ٹوئنٹی، ایک ٹرِیلین ڈالر کا معاہدہ

دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے سربراہان عالمی معاشی بحران پر قابو کے لیے ایک اعشاریہ ایک ٹرِیلین یا گیارہ کھرب ڈالر کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔
دنیا کے اہم صنعتی ممالک کی تنظیم جی ٹوئنٹی کا سربراہی اجلاس لندن میں ہوا جہاں بیس ملکوں کے سربراہوں نے مشکل اقتصادی حالات سے دوچار ممالک کی مدد کرنے والے عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف کے لیے سات سو پچاس ارب ڈالرکی رقم مختص کرنے پر اتفاق کیا جبکہ بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لیے ڈھائی سو ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> جی ٹوئنٹی تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/04/090402_g20_summit_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس اقتصادی بحالی کے عمل اور ایک ناکام نگران نظام کے اصلاح کے عمل میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’لندن اجلاس ہر لحاظ سے تاریخی تھا کیونکہ اس وقت ہمیں درپیش مشکلات اور اس اجلاس سے وابستہ توقعات بھی تاریخی ہیں اور یہی نہیں بلکہ اس کے تاریخی ہونے کی وجہ ہمارا بروقت اور عظیم جواب ہے‘۔
اس سے قبل برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے کی غرض سے قائم کیے گئے خفیہ مقامات یا ٹیکس ہیونز کے پابندیاں لگائی جائیں گی اور سخت عالمی معاشی ضوابط متعارف کروائے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران بنکوں کے مضر اثاثوں کو صاف کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم براؤن نے جی ٹوئنٹی کے ایما پر اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب بینک افسران کی تنخواہوں اور مراعات پر کڑی نظر رکھی جائے گی، فنانشل سٹیبیلیٹی بورڈ یا مالی استحکام بورڈ کے نام سے نئے ادارے کا قیام عمل لایا جائے گا جو آئی ایم ایف کے ساتھ ملکر مختلف ملکوں کے مابین تعاون کو یقینی بنائے گا اور مالی نظام کے لیے پہلے سے خبردار کرنے والا طریقہ کار وضع کرے گا، مختلف ملکوں کی مالی ساکھ جانچنے والے اداروں کے لیے وسیع قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں گے اور دنیا کے غریب ترین ملکوں کو اضافی امداد دی جائے گی۔
گورڈن براؤن نے کہا کہ ’ آج وہ دن ہے جب عالمی کساد بازاری کے خلاف پوری دنیا ایک ہوگئی ہے، الفاظ میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں تاکہ عالمی معیشت کو ایک مقررہ وقت کے اندر بحال کیا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے جادو کی کوئی چھڑی نہیں ہے مگر ضروری اقدامات کرنے کا عزم مصمم موجود ہے۔
وزیراعظم براؤن کا کہنا تھا کہ معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم یا او ای سی ڈی ٹیکس چوری کرنے والوں کی ایک فہرست جاری کرے گی اور ان لوگوں یا اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس اجلاس سے سب سے زیادہ فائدہ آئی ایم ایف کو پہنچا ہے۔ مالی مشکلات سے دوچار ملکوں کی مدد کے لیے اس کے وسائل پانچ سو ارب ڈالر تک بڑھا دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اوور ڈرافٹ کی سہولت کو ڈھائی سو ارب ڈالر کیا جائے گا تاکہ غریب ممالک بوقت ضرورت اس سے استفادہ کر سکیں۔
اجلاس کے بعد فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا کہنا تھا کہ جی ٹوئنٹی اجلاس کا نتیجہ ’امید سے کہیں زیادہ ہے‘ جبکہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ ان نئے اقدامات سے دنیا کو ایک شفاف مالیاتی بازار ملے گا اور یہ معاہدہ ’ بہت زیادہ اچھا بلکہ قریباً تاریخی معاہدہ ہے‘۔ خیال رہے کہ اجلاس سے پہلے یورپی ممالک کے بعض رہنماؤں نے اجلاس کے ممکنہ نتائج اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جرمنی اور فرانس کے سربراہوں نے بدھ کی شام کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ اس اجلاس میں مالیاتی ضوابط کے ایک سخت نظام پر اتفاق کیا جائے۔
احتجاجی مظاہرے
جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعرات کو مزید احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ تاہم گزشتہ روز کے مقابلے میں ان کی شدت زیادہ نہیں تھی۔ چند سو مظاہرین اجلاس کے مقام ایکسل سنٹر کے باہر موجود رہے کہ جبکہ چار سو کے قریب مظاہرین لندن شہر میں بینک آف انگلینڈ کی عمارت کے قریب جمع ہوئے جہاں پولیس نے انہیں زیادہ آگے نہیں جانے دیا۔ بدھ کو لندن کے مالیاتی مرکز میں خاصے پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ ان مظاہروں میں تقریباً پانچ ہزار افراد شریک تھے۔






















