گوانتامو کی حسین یادیں

گوانتاناموبے جزیرے پر قائم امریکی قید خانے کےمستقل رہائیشیوں کےلیے تو شاید یہ کسی جہنم سے کم نہ ہو لیکن حال ہی میں مس یونیورس کا تاج سر پر سجانے والی ملکہ حسن ڈیانا مینڈوزا کا کہنا ہے کہ یہاں دن گزارنا ان کی زندگی کا یادگار تجربہ ہے۔
وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ڈیانا مینڈوزا نے اس سنٹر کا دورہ کیا اور ستائیس مارچ کو مس یونیورس کےلیے مخصوص اپنے بلاگ میں اس کے بارے میں لکھا۔
ان کے اس بیان پر کہ وہ اس پر سکون اور خوبصورت مقام کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں‘ شدید ردعمل سامنے آیا۔ جس کے بعد اب ویب سائٹ سے ان کا بلاگ ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ان کے اس دورے کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اپنے بلاگ میں انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم دوستوں کے ساتھ مشرقی ساحل پرگھومے پھرے جنہوں نے ہمیں اپنی کشتیاں دکھائیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ کیسے کام کرتی ہیں اور وہ اس کو کیسے چلاتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے ہمیں اس کی سواری کرائی جس سے ہم بےحد محظوظ ہوئے۔‘
’ہماری ملاقات فوج کے کتوں سے بھی ہوئی جنہوں نے اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کیا۔ جب کہ فوج کے تمام جوان ہمارے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آئے۔‘
„ہم نے زیرحراست رکھے گئے قیدیوں کے کیمپ کا بھی دورہ کیا جہاں ہم نے دیکھا کہ وہ کیسے کتابوں، آرٹ کی کلاسز اور موویز سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ سب بہت دلچسپ تھا۔‘
یہ بلاگ اب مس یونیورس کی ویب سائٹ سے ہٹا دیاگیا ہے اور اس کی جگہ تنظیم کی صدر مس پاولا شگرٹ کا یہ بیان شائع کیا گیا ہے کہ وہ مس مینڈوزا کے اس دورے کا مقصد اس پروگرام کا حصہ ہے جو کہ جذبہ خیر سگالی کے تحت ان امریکی خواتین اور مرد فوجیوں کے لیے ترتیب دیاگیا ہے جو کہ پوری دنیا میں ہمارے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔‘
اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مس مینڈوزا کے اس بلاگ کا مقصدگوانتانامو میں رہنے والے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی طرف سے ملنے والی پذیرائی کو سراہنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ سابق امریکی حکومت کی طرف سے دشمن جنگجوؤں کو حراست میں رکھنے کے لیےمخصوص اس کیمپ کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور یہاں زیرحراست رکھے جانے والے سابق قیدیوں نے یہاں پرتشدد سزائے دیے جانے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گوانتا نامو بے قید خانے کا استعمال بش انتظامیہ کے متنازعہ ترین اقدامات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ صدر براک اوباما نے اس سال فروری میں عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد گوانتانامو بے کے قید خانے کو بند کرنے کے احکامات جاری کیےتھے۔ یہ فیصلہ صدر اوباما کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں میں سب سے پہلا فیصلہ تھا۔
صدر اوباما کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ یہ قید خانہ جو دنیا بھر میں امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث بھی رہا تھا ایک سال کے اندر بند کر دیا جائے گا۔





















