امریکہ: ترقی یافتہ قوم ہونے کا لالی پاپ

امریکی اپنی دنیا میں مست قوم ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی اپنی دنیا میں مست قوم ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

آم کا مزہ معلوم کرنے کے لیے اس کا کھانا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی جگہ کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے وہاں جانا لازمی ہے۔ امریکہ اور وہاں بسنے والوں کے بارے میں ذہن میں تھوڑا بہت تاثر تو پاکستان میں بیٹھ کر بن جاتا ہے جو موجودہ حالات میں زیادہ مثبت نہیں ہے۔

چاول کے چند دانوں کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی بجائے امریکی دیگ میں پکنے والے چاول پیٹ بھر کر کھانے کا موقع گزشتہ دنوں میسر آیا تو بہت کچھ واضح ہوگیا۔ پانچوں انگلیاں جس طرح برابر نہیں ہوتیں اسی طرح ’انکل سام‘ کے دیس میں بسنے والے امریکیوں اور خود پاکستانیوں کے بارے میں ایک رائے پر پہنچنا یقینا غلط ہوگا۔

امریکی معاشرے نے جو اپنی عوام کو دنیا کی بہترین ترقی یافتہ قوم ہونے کا لالی پاپ دے رکھا ہے اس کا اظہار آپ کو یہاں واضح طور پر نظر آئے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سیاسی و فوجی طاقت ہے لیکن امریکہ سے باہر کی دنیا کا یہاں کی اکثریت کو نہ تو علم ہے اور نہ ان میں اس کے بارے میں جاننے کا کوئی تجسس دیکھنے میں آیا ہے۔

یہاں ٹی وی چینلز پر آپ کو چپس کس تیل میں تلنے چاہئیں تو دیکھنے کو ملے گا لیکن باقی دنیا میں کیا اللے تللے ہو رہے ہیں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ ہاں اگر امریکی صدر اگر کہیں غیرملکی دورے پر جاتے ہیں یا کوئی امریکہ سے جڑا بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو پھر دو چار منٹ کی خبر ان چینلوں کو دینی پڑ جاتی ہے۔

اس وقت بھی ایک چینل پر امریکیوں کو ایک فضائی کمپنی کی جانب سے یہ خبر دی جا رہی ہے کہ وہ اب سات سو مسافروں کی شکایت کے بعد موٹے افراد سے دو سیٹوں کا کرایہ وصول کریں گی اور امریکی تحقیقات کاروں کی جانب سے القاعدہ کے زیر حراست ’غیرانسانی‘ سلوک انتہائی سائنسی بنیاد پر کیا گیا جوکہ جائز تھا۔

باقی تمام چینل ’امریکی خواب‘ مختلف دلچسپ صورتوں میں امریکی عوام کو فروخت کر رہے ہیں۔ میرا مطلب ہے امریکی عوام کو ’بہترین زندگی‘ کے سپنے میں دکانداری کے ذریعے جکڑے ہوئے ہیں۔ اکثر مغربی ممالک کا میڈیا اسی مرض کا شکار ہے لیکن بعض ممالک جیسے کے برطانیہ ان افراد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باہر کی دنیا سے ایک متعلق ایک آدھ چینل ہی سہی، چلاتے ضرور ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں میں تجسس نہیں۔ جنہیں دلچسپی ہے تو انہیں پھر تیزی سے پھیلتے ہوئے تِھینک ٹینک کلچر کا یہاں سہارا لینا پڑتا ہے۔ فیس کی ادائیگی کے بعد وہ تمام دن کسی مخصوص موضوع پر لیکچر سنتے رہتے ہیں یا مقررین سے سوالات کرتے رہتے ہیں۔ یہ کانفرنسیں معلومات کے تبادلے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

امریکیوں میں سے کسی سے بات کریں تو انہیں معلوم نہیں ہوگا کہ اسی دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں امریکی نظام سے کئی بہتر چیزیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان سے موازنہ تو ممکن نہیں لیکن دنیا کی ایک اور بڑی مضبوط معیشت برطانیہ ہی کی دوبارہ مثال لے لیں۔ امریکہ سے کہیں بہتر پبلک ٹرانسپورٹ نظام اور کہیں اعلی صحت کا شعبہ چند باتیں ہیں جو برطانیہ کو امریکہ پر فوقیت دیتی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ یہاں نہ ہونے کی بڑی وجہ یہاں پاکستان کی طرح گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی مضبوط لابی ہے۔ ان کمپنیوں نے بڑی بڑی گاڑیوں سے امریکیوں کی محبت اتنی پیدا کر دی ہے کہ خراب معاشی حالات میں بھی اس وقت یہاں آپ کو ایس یو ویز جیسی بڑی گاڑیاں زیادہ دکھائی دیں گی۔ پاکستان میں معروف ترین آلٹو جیسی کسی چھوٹی گاڑی کا تو کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے۔

امریکی حکومت نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پیٹرول کافی سستا رکھا ہوا ہے۔ بیس ڈالر میں گاڑی کا ٹینک بھریں اور ہفتہ بھر جی بھر کر گاڑی چلائیں۔ ہاں اگر آپ پارکنگ فیس دینا گوارا کرسکتے ہیں تو۔

ٹائن الیون کے بعد سکیورٹی بڑھی تو ہے لیکن اس بھونڈے انداز میں نہیں جیسے جنوبی ایشیا میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کیمرے اور بڑے بڑے کنٹینر نما گاڑیوں میں پولیس مشتبہ افراد پر ایسے نظر رکھتی ہے کہ کسی کے فرشتوں کو بھی علم نہ ہو۔ بھدے بھدے کنکریٹ بلاکس کی بجائے گملہ نما حفاظتی بلاکس دکھائی دیتے ہیں۔

واشنگٹن آمد پر ہوائی اڈے پر محض کاغذی کارروائیوں میں وقت لگا لیکن واپسی پر تو نہ جانے کیوں شک ہوا کہ اضافی سکیورٹی چیکس سے گزرنا پڑا۔ کافی غصہ بھی آیا لیکن یہ واضح نہ ہوسکا کہ اس شک کی بنیاد ایئرلائن تھی یا امریکی سکیورٹی ادارے۔ دونوں سے دریافت کیا لیکن دونوں نے ایک دوسرے کو اس کی وجہ قرار دیا۔

امریکی ’ایروگینس‘ کے بارے میں سنا تو تھا لیکن افسوس کہ اس کا اظہار امریکیوں کی طرف سے نہیں اپنے ایک پاکستانی بھائی کی جانب سے جاتے جاتے دیکھنے کو ملا۔ اکثر پاکستانی بھائیوں نے بڑی محبت سے مہمان نوازی کی لیکن اس ایک شخص کے اس اقدام سے یہ تو کافی حد تک واضح ہوگیا کہ کسی مہذب معاشرے میں رہنے سے ضروری نہیں کہ آپ مہذب بن بھی جائیں۔ تنگ نظری اور خودفریبی کہیں بھی پائی جاسکتی ہے۔