القاعدہ سے تعلق: جرم کا اقرار

المری
،تصویر کا کیپشنالمری کودسمبر 2001 میں گرفتار کیا گیا تھا

امریکہ میں اُس شخص نے جرم کا اقرار کر لیا ہے جس پر امریکہ میں القاعدہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔

علی المری نامی اس شخص کی سعودی عرب اور قطر کی دوہری شہریت ہے۔ ان کو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے دو ماہ بعدگرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت میں ان پر فرد جرم عائد کرنے سے پہلے امریکی حکام نے ان کو دشمن جنگجو قرار دے کر چھ سال تک ایک فوجی جیل میں رکھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ علی المری کی القاعدہ کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی تھیں اور انہیں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے امریکہ بھیجا گیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ انیس سو اٹھانوے میں القاعدہ کے اعلیٰ رہنماؤں سے رابطے میں تھے اور انہوں نے پاکستان جا کر ٹریننگ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔

المری دس ستمبر دو ہزار ایک میں سٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔تعلیم کےدوران انہوں نے زہریلے مواد اور امریکہ میں ڈیموں، آبی گزرگاہوں اور سرنگوں کے بارے میں تفصیلی معلومات اکھٹا کیں۔

ان کو دسمبر 2001 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر کریڈٹ کارڈ فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ سنہ 2003 میں بش انتظامیہ نے انہیں دشمن جنگجو قرار دے کر ریاست نارتھ کیرولائینہ میں ایک فوجی اڈے میں قید کر دیا۔ دسمبر 2008 میں سپریم کورٹ نے ان کی حراست کے قانونی جواز کا جائزہ لینے کی درخواست منظور کر لی تاہم دو ماہ میں صدر اوباما کے صدارت سنبھالنے کے بعد وفاقی عدالت نے ان پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی۔

المری نے جرم کا اقرار اب حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت کیا ہے۔ ان کے خلاف ایک اور الزام اب واپس لے لیا گیا ہے۔ انہیں تیس جون کو سزا سنائی جائے گی۔