افعانستان میں خود کش حملے

مزید اکیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنمزید اکیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے جا رہے ہیں

مشرقی افعانستان میں واقع صوبہ خوست میں خود کش حملہ آوروں نے دو حکومتی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ کی ترجمان ضمیری بشرے کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات تو ملی ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ خوست میں اکثر طالبان اور اتحادی افواج میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہنا تھا کہ 'بارود بھری کاروں، خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی جیکٹوں اور بندوقوں سے مسلح ہمارے تیس جنگجو خوست شہر میں داخل ہو چکے ہیں‘۔

حکومتی ترجمان اس بات کی تصدیق نہیں کر سکیں کہ حملے میں کتنے لوگ شریک تھے۔

جن عمارتوں کو خوست میں حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں صوبائی گورنر کے دفاتر کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔

خوست شہر میں حملے روکنے کے لیے فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور سکیورٹی اہلکار ان شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے شہر کی تلاشی لے رہے ہیں جن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شہر سے فرار ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندوں نے ایک ساتھ کئی مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جس سے ان کی کی مہارت میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے ہیں جب امریکہ نے افغانستان میں اپنے کمانڈر کو تبدیل کیا ہے۔

حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں افغانستان کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گی۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد اڑتیس ہزار ہے جب کہ اکیس ہزار مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔