افعانستان میں خود کش حملے

مشرقی افعانستان میں واقع صوبہ خوست میں خود کش حملہ آوروں نے دو حکومتی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔
افغان وزارتِ داخلہ کی ترجمان ضمیری بشرے کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات تو ملی ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ خوست میں اکثر طالبان اور اتحادی افواج میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
طالبان کے ایک ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہنا تھا کہ 'بارود بھری کاروں، خودکش حملوں میں استعمال کی جانے والی جیکٹوں اور بندوقوں سے مسلح ہمارے تیس جنگجو خوست شہر میں داخل ہو چکے ہیں‘۔
حکومتی ترجمان اس بات کی تصدیق نہیں کر سکیں کہ حملے میں کتنے لوگ شریک تھے۔
جن عمارتوں کو خوست میں حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں صوبائی گورنر کے دفاتر کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
خوست شہر میں حملے روکنے کے لیے فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور سکیورٹی اہلکار ان شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے شہر کی تلاشی لے رہے ہیں جن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شہر سے فرار ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندوں نے ایک ساتھ کئی مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جس سے ان کی کی مہارت میں اضافے کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ حملے اس وقت کیے گئے ہیں جب امریکہ نے افغانستان میں اپنے کمانڈر کو تبدیل کیا ہے۔
حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں افغانستان کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گی۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد اڑتیس ہزار ہے جب کہ اکیس ہزار مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔







