سوشل ڈیموکریٹوں کی ناکامی

یورپی انتخابات میں ووٹنگ
،تصویر کا کیپشنیورپ بھر میں دائیں بازو کا کامیابی

یورپی پارلیمان کے لیے ہونے والے انتخابات کو آپ ستائیس الگ الگ انتخابات سمجھیں یا پورے یورپی یونین کی جھلک ان میں ایک رجحان ضرور نظر آتا ہے۔

شدید اقتصادی بحران میں جب ووٹروں کے لیے اپنی حکومتوں کو سزا دینا تقریباً ایک روایت بن چکی ہے یورپی یونین کے انتحابات میں ایسا نہیں ہوا۔ پولینڈ، جرمنی، اٹلی اور فرانس کی دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی حکمران جماعتوں کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ بر اعظم یورپ میں یہ تاثر بھی ہو سکتی ہے کہ اقتصادی بحران امریکہ اور برطانیہ میں اینگلو سیکسن حکمرانوں کا عطا کیا ہوا ہے نہ کہ ان کے اپنے رہنماؤں کا۔

لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ یورپ بھر میں سماجی جمہوریت کی ناکامی ہے۔ ان کے کچھ ووٹ مزید بائیں بازو کی جماعتوں کو بھی ملے ہیں۔فرانس اور جرمنی میں بائیں بازو کی مرکزی جماعت کچھ عرصے سے بد انتظامی کا شکار ہے۔ جرمنی میں جہاں بائیں بازو کی جماعت حکمران اتحاد کا حصہ ہے وہاں بھی وہ اس کی حیثیت ایک ماتحت رفیق سے زیادہ نہیں۔

اقتصادی بحران میں جسے عام طور پر ایسے معاشی نظام کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے جو کچھ زیادہ ہی آزاد تھی، دنیا جہاں لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور جن کے بارے میں توقع کی جا سکتی کہ وہ سماجی تحفظ کی خواہش رکھتے ہوں گے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سوشل ڈیموکریٹ آسانی سے جیت جاتے۔

سماجی جمہوریت کی داعی سیاسی جماعتیں یورپ میں غیر منظم ہیں، انہیں نئے جذبے اور نئے خیالات کی ضرورت ہے۔