معمر قذافی: بادشاہوں کا بادشاہ

لیبیا کے صدر معمر قذافی پہلی مرتبہ اٹلی کا دورہ کررہے ہیں۔ لیبیا ماضی میں اٹلی کی نو آبادی رہی ہے اور اب یہ دونوں ممالک بڑے تجارتی ساتھی ہیں۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بلی کا کہنا ہے کہ روم میں جو تاثر وہ چھوڑ کر جائیں گے وہ ایسا نہیں ہے کہ جس کی انہوں نے خود خواہش کی ہوگی۔
اٹلی اور لیبیا کے ماضی کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں رہے ہیں۔
تاہم ماضی کی تلخ یادوں کو بھلانا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا جبکہ معمر قذافی اپنے فوجی یونیفارم میں ملبوس تھے اور سینے پر عمر مختار نامی لیبیا کے اس رہنما کی تصویر لگا رکھی تھی جنہوں نے نوآدیاتی نظام کے خلاف جنگ کی تھی اور جنہیں 1931 میں اٹلی میں قتل کیا گیا تھا۔ اس موضوع پر ہالی وڈ نے ایک فلم بھی بنائی تھی جس میں انتھونی کوئین نے عمر مختار کا کردار ادا کیا تھا۔ ماضی کی یہ فلم اس ماہ سے قبل اٹلی میں کبھی نہیں دکھائی گئی۔
معمر قذافی نے اپنا قیام ایک خیمے میں رکھا جسے انہوں نے ایک بڑے پارک میں لگوایا تھا اور جس میں وہ بدوؤں کے انداز میں قیام پذیر رہے۔
سوچئے ذرا، ہزاروں کی تعداد میں فیشن ایبل خواتین روم کے نئے کنسرٹ ہال میں جمع ہوں اور مہنگے ترین فیشن ڈیزائنرز کے لباس پہن کر لیبیا کے رہنما سے ملنے کی خواہشمند ہوں۔ وہ تمام خواتین جنہوں نے بزنس، سیاست یا کسی اور میدان میں نام کمایا ہے۔ لیبیا کی نامور خواتین جو کہ معمر قذافی کی آمد پر اٹلی کی ایک وزیر کی دعوت پر جمع ہوئیں۔ اٹلی کی یہ وزیر سابق ملکہ حسن رہ چکی ہیں۔
جب لیبیا کے رہنما وہاں پہنچے تو خواتین کی مایوسی قابل دید تھی۔ انہوں نے اپنا خطاب عربی میں کیا جسے وہاں موجود مترجم مسلسل ترجمہ کرتے رہے۔ اس خطاب پر طویل وقت صرف ہوا۔ قذافی کا موضوع بھی یورپ اور افریقہ میں خواتین کی حالت زار تھا۔
یہ خطاب آہستہ آواز میں تھا۔ قذافی کی آواز سننے کے لیے خواتین کو مشکل پیش آتی رہی۔
ان ماڈرن خواتین کو خطاب کا وہ حصہ پسند آیا جس میں انہوں نے عرب دنیا کی خواتین کی حالت بیان کی۔ قذافی کا کہنا تھا کہ ان خواتین کے ساتھ بعض اوقات کسی فرنیچر کے ٹکڑے کی طرح سلوک روا رکھا جاتا ہے جسے جب دل چاہے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس پر کوئی یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ ایسا کیوں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے دعوٰی کیا کہ لیبیا میں خواتین اور مرد برابر ہیں تاہم وہاں موجود خواتین ان کے اس دعوے پر زیادہ قائل نظر نہیں آئیں۔
انہوں نے اپنے آپ کو تیسری صدی کے اس رومن بادشاہ کی آل اولادوں میں سے بتایا جوکہ بحیرہ روم کے جنوبی ساحل پر پیدا ہوا تھا، یعنی کہ وہ علاقہ جو کسی زمانے میں اطالوی نوآبادی بھی تھا۔
انہوں نے اپنے میزبان کو یہ بتا کر بھی شرمندہ کیا کہ اٹلی کو اپنی تمام سیاسی جماعتیں ختم کرکے طاقت اور اختیار عوام کے حوالے کردینا چاہیے جیساکہ انہوں نے خود لیبیا میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’سیاسی جماعتوں کا نظام ، جمہوریت کا قتل ہے۔ سیاسی جماعتیں نہیں ہوں گی تو ملک میں دائیں، بائیں یا مرکزی، کوئی دھڑا نہیں رہے گا‘۔
بعد میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران روم کے میئر گیوانی الیمانو نے نہایت ناگواری کے ساتھ کہا ’ہمیں جمہوریت پر کسی سے سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔
روم کی یونیورسٹی میں طلباء نے لیبیا میں انسانی حقوق کی تاریخ کے خلاف احتجاج کیا۔
بعد میں سرکاری میزبانی کے محل میں قیام کے دوران قذافی نے امریکہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا کہ 1986 میں ٹرائیپولی پر امریکی حملہ جس میں ان کی اپنی شحر خوار بچی ہلاک ہوئی تھی، اتنا ہی برا ہے جتنا کہ القاعدہ کی دہشتگردی۔
دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی روابط ہیں۔ اٹلی نے بیسویں صدی کے آغاز میں لیبیا پر 30 سالہ حکومت کے دوران کی گئی اپنی بدسلوکیوں پر لیبیا کو 5 ارب ڈالر ادا کرنے پر کا وعدہ کیا ہے۔
روم میں جو تاثر وہ چھوڑ کر جائیں گے وہ ایسا نہیں ہے کہ جیسا انہوں نے خود چاہا ہوگا۔ تاہم وہ اگلے ماہ جی ایٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے دوبارہ اٹلی آئیں گے۔





















