صومالیہ میں پولیس سربراہ ہلاک

موغادیشو
،تصویر کا کیپشنچشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آٹھ لاشیں دیکھی ہیں جن میں زیادہ تر عام شہریوں کی تھیں۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے پولیس سربراہ شورشیوں پر کیے جانے والے ایک حملے کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہر میں اسلامی چھاپہ مار شورشیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اب تک ڈھائی سو سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آٹھ لاشیں دیکھی ہیں جن میں زیادہ تر عام شہریوں کی تھیں۔

موغادیشو کی ایک رہائشی عائشہ معلم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 'گزشتہ کئی ماہ کے دوران یہ شدید ترین جھڑپ تھی۔ ہم نے اپنے کمروں میں لیٹ کر جانیں بچائیں‘۔

موغادیشو میں شدت پسندوں اور حکومت نوازوں کے درمیان تازہ ترین جھڑپوں کا سلسلہ سات مئی سے شروع ہوا تھا۔

موغادیشو
،تصویر کا کیپشناسلامی شدت پسندوں کے رہنما شیخ حسن داہر جو ہمیشہ مسلح افراد کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہیں۔

بدھ کو دارالحکومت کا جنوبی علاقہ، ہودان گولیوں کی آواز سے گونجتا رہا اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے اور دیواروں کے اوٹ میں پناہ لیتے دیکھا گیا۔

پولیس کے ترجمان کرنل عبدالحئی حسن نے تصدیق کی ہے کہ علاقائی پولیس کے سربراہ کرنل علی سعید بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

بی بی سی مشرقی افریقہ کے نامہ نگار ول روش کا کہنا ہے کہ کرنل علی سعید کی ہلاکت حکومت نواز قوتوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہو گا کیوں کہ وہ شورشیوں کے خلاف کارروائیوں میں اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سب سے آگے آگے رہتے تھے۔

ایک علاقے میں افریقی یونین امن فوج کے دستے بھی اس جھڑپ میں ملوث ہو گئے اور انہوں نے بھی شورشیوں کے ٹھکانوں پر گولے پھینکے تاہم اے یو کے ایک اہلکار نے اس تردید کی ہے۔

موغادیشو
،تصویر کا کیپشنشہر میں کئی عمارتیں جو گولیوں سے چھلنی ہیں اور جنہیں ان کے رہائشی چھوڑ گئے ہیں اور جو شدت پسندوں کے مورچے بنی ہوئی ہیں۔

جھڑپوں میں ملوث اسلامی شدت پسندوں میں الشہاب نامی گروپ بھی شامل ہے جس پر القاعدہ سے تعلقات کا الزام ہے اور کہا جاتا ہے کہ القاعدہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تین سال کے لیے بنائی گئی کمزور حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے۔

یہ حکومت گزشتہ جنوری میں ایک معتدل اسلام پسند صدر کی قیادت میں قائم کی گئی تھی اور ان کی طرف سے شریعت کے نفاذ کا اعلان بھی اس کٹر مسلمان ملک میں چھاپہ مار جنگجوؤں کو مطمئن نہیں کر سکا۔

صومالیہ میں انیس سو اکیانوے سے اب تک کوئی موثر حکومت قائم نہیں ہو سکی اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ بیس لاکھ نفوس کے لگ بھگ آبادی والے اس ملک کی ایک تہائی آبادی خوراک کی شدید کمی کا شکار ہے۔