ڈاکٹر عافیہ ٹیکساس سے نیویارک منتقل

عافیہ صدیقی گزشتہ عرصہ سے ٹیکساس ریاست کے وفاقی نفسیاتی مرکز منتقل کی گئي تھیں
،تصویر کا کیپشنعافیہ صدیقی گزشتہ عرصہ سے ٹیکساس ریاست کے وفاقی نفسیاتی مرکز منتقل کی گئي تھیں

افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید خاتون پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ٹیکساس ریاست میں وفاقی نفسیاتی مرکز سے نیویارک جیل منتقل کردیا گیا ہے جہاں چھ جولائي کو ان کے خلاف مقدمے ابتدائی سماعت ہوگي۔

جمعہ کے روزنیویارک میں وفاقی عدالت یو ایس سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں پاکستانی خاتون سائنسدان کے خلاف امریکی حکومت کی طرف سے قائم کیے گۓ م‍قدمے میں انکے دفاع کے وکیل اور استغاثہ کے مابین جج کے صدارت میں کانفرنس ہونی تھی جس میں عدالت نے عافیہ صدیقی کے خلاف دونوں فریقین کی درخواستوں پر انکے (عافیہ صدیقی کے) نفسیاتی معائنے کے لیےعدالت کی طرف سے مقرر کيے گئے ماہرین کی رپورٹوں کی روشنی میں عدالت کو غور کرنا تھا کہ آیا عافیہ صدیقی ان پر مقدمہ چلاۓ جانے کی اہل ہیں کہ نہیں۔ نیز حکومت کی طرف سے عافیہ صدیقی کو انکے دفاع کے لیے مہیا کردہ وکیل کی گزشتہ تاریخ سماعت پر درخواست پر استغاثہ کو عافیہ صدیقی سے دوران قید پوچھ گچھ کی وڈیو آڈیو ریکارڈنگ کے اسکرپٹ بھی مہیا کیے جانے تھے کہ سماعت ملتوی کردی گئي۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو پاکستانی تنظیم پاکستان یو ایس اے فریڈم فورم جو کہ امریکہ میں عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مہم چلا رہی ہے کے سیکرٹری جنرل شاہد کامریڈ نے عافیہ صدیقی کو حکومت کی طرف سے مہیا کردہ دفاعی وکیل سے اپنی بات چیت کے حوالے سے بتایا کہ ان کواور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو فوری طور ڈاکٹر عافیہ کو دیکھنے کیلیے بروکیلن جیل جانا پڑا۔ تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم اور وکیل کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جمعے کی صبح جیل میں دیکھنے کی وجہ فوری طور معلوم نہیں ہوسکی۔

عافیہ صدیقی گزشتہ نو ماہ سے ٹیکساس ریاست کے وفاقی نفسیاتی مرکز منتقل کی گئي تھیں جہاں سے ان کو گزشتہ ہفتے نیویارک کے بروکلین جیل لایا گیا ہے۔ اس سے قبل واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے بھی ٹیکساس ریاست کے نفسیاتی مرکز میں علاج کے غرض سے لائي گئي ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی تھی۔ پاکستانی حکومت امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان منتقل کیلے جانے کیلیے امریکی حکومت پر کوششیں کرتی بتائي جاتی ہے۔