مشکلیں ابھی آئیں گی: عراق کوامریکی پیغام

عراق اور امریکہ کے فوجی، قصبوں اور شہروں سے امریکی فوجیوں کی اپنے اڈوں میں واپسی کے موقع پر الرٹ تھے اور اس بات کا خدشہ تھا کہ شدت پسند حملہ کر سکتے ہیں۔ عراق میں منگل کو یومِ خود مختاری منایا گیا اور حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنعراق اور امریکہ کے فوجی، قصبوں اور شہروں سے امریکی فوجیوں کی اپنے اڈوں میں واپسی کے موقع پر الرٹ تھے اور اس بات کا خدشہ تھا کہ شدت پسند حملہ کر سکتے ہیں۔ عراق میں منگل کو یومِ خود مختاری منایا گیا اور حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے عراق کے شہروں سے امریکی فوج کی واپسی کو سنگِ میل قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ابھی مشکل دن آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق عراقی شہروں اور قصبوں سے واپس ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عراق کے رہنماؤں کو سکیورٹی اور سیاست سے متعلق اب مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔

اسی دوران جب عراق کے لوگ امریکی فوج کی واپسی کی خوشیاں منا رہے تھے، شمالی شہر کرکوک میں بم دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے۔

امریکی صدر نے عراقی صورتِ حال کے بارے میں بات کرتے ہویے کہا کہ اب عراق کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھوں میں ہے اور عراقی عوام کے پاس جشن منانے کا مناسب جواز ہے۔

عراق کی پولیس کے برگیڈیئر جنرل نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ کرکوک میں بم حملے میں کم از کم چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکہ ایک گاڑی کے ذریعے کیا گیا جسے شرجاء مارکیٹ میں لوگوں کے ہجوم میں پارک کیا گیا تھا۔

کرکوک کے شمالی شہر میں ہونے والے حملہ اسی شہر میں دس روز قبل ٹرک بم حملے کے بعد ہوا ہے۔ اس حملے میں ستر افراد مارے گئے تھے۔

عراق اور امریکہ کے فوجی، قصبوں اور شہروں سے امریکی فوجیوں کی اپنے اڈوں میں واپسی کے موقع پر الرٹ تھے اور اس بات کا خدشہ تھا کہ شدت پسند حملہ کر سکتے ہیں۔ عراق میں منگل کو یومِ خود مختاری منایا گیا اور حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔

کرکوک بغداد سے تقریبا 250 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور گزشتہ ماہ یہاں دو خود کش حملے بھی ہوئے تھے۔یہ شہر شمالی عراق کی تیل کی صنعت کا مرکز ہے اور یہاں کرد، عرب، عیسائی اور ترکمان لوگ رہتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ منگل کو کرکوک میں ہونے والے کار بم دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے عربوں اور کردوں کے درمیان نسلی کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

دیگر بم دھماکوں میں جن میں اب تک دو ہفتوں میں دو سو پچاس افراد مارے گئے ہیں، ان کا نشانہ بالعموم شیعہ طبقہ تھا۔