امریکی فوج کے انخلاء کی تیاری

عراق میں امریکی فوجی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنامریکی فوجی شہروں سے زیادہ دور نہیں ہیں اور ضرورت پڑنے پر عراق فوج کی مدد کو آ سکتے ہیں

عراق میں حکام نے ملک کے شہروں سے امریکی فوج کے انخلاء کی تیاری میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ امریکی فوج آئندہ منگل تک شہروں سے چلی جائے گئی۔

دریں اثناء عراق میں تشدد کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں جن میں ایک ہفتے میں دو سو پچاس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کے شہروں سے ہٹائے جانے کے پیش نظر عراقی پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور عراقی فوج میں اضافی فوجی بھرتی کیے جا رہے ہیں۔

ملک کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد فرقہ واریت پھیلانا ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ ان کی حکومت سکیورٹی کے انتظامات سنبھال سکتی ہے۔

امریکی فوجی بغداد سمیت کئی اور شہروں میں فوجی اڈے پہلے ہی چھوڑ چکی ہے، لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ فوجی شہروں سے زیادہ فاصلے پر نہیں جہاں سےان کو باآسانی حالات خراب ہونے کی صورت میں عراق فوج کی مدد کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں میں زیادہ تر شیعہ آبادی والے علاقے نشانہ بنے اور ان کے لیے حکام القاعدہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ حکام سکیورٹی سخت کرنے کے لیے بازاروں کو جانے والے راستوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک لاکھ تینتیس ہزار میں سے زیادہ تر اہلکار عراقی حکام کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت جون تیس کو عراقی شہروں سے نکل کر فوجی اڈوں میں چلے جائیں گے۔

عراق میں فوجی کارروائی ستمبر دو ہزار دس کو ختم ہو جائے گی اور سن دو ہزار گیارہ کے آخر تک تمام امریکی فوجی عراق سے چلے جائیں گے۔