امریکی فوج، راہداری پر روس کا اتفاق

امریکی فوج
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں لگ بھگ چھپن ہزار امریکی فوجی موجود ہیں

صدر اوباما کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس نے اس بات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ کے لیے جانے والے امریکی فوجیوں کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دیدے گا۔

اس سمجھوتے کا اعلان آئندہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما کے دورۂ روس کے موقع پر کیا جائے گا۔ اس معاہدے سے امریکی فوج کے لیے ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔

اگرچہ روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک روسی افسر نے تصدیق کی کہ ایک معاہدہ زیر غور تھا تاہم ان کے بقول یہ ہتھیاروں سے متعلق ہے۔

مذکورہ معاہدہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے۔

اب تک روس نے امریکہ کو صرف غیر جنگی اشیاء ٹرین کے ذریعے افغانستان لے جانے کی اجازت دی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکومت کے ایک اہلکار نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی جہاز ہتھیار اور فوجیوں کو روسی فضائی حدود سے گزار سکیں گے۔

حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے تعلقات میں زیادہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ روس کو نیٹو کے مشرقی یورپ میں پھیلاؤ پر اعتراض رہا ہے، اور وہ امریکہ کے میزائل دفائی نظام کا بھی مخالف ہے۔

امریکی صدر چھ سے آٹھ جولائی تک روس کا دورہ کریں گے جہاں وہ اپنے روسی ہم منصب ڈمتری مدائیف کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی، اور ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

روسی صدر کے مشیر برائے خارجہ امور، سرگئی پریخودکو، نے جمعہ کو کہا تھا کہ دونوں صدور کی ملاقات میں افغانستان جانے والی امریکی فوج کے لیے راہداری سے متعلق معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

مشیر کے مطابق اگرچہ معاہدے زمینی اور فضائی دونوں راستوں کے استعمال سے متعلق ہوگا تاہم زیادہ استعمال فضائی راستے کا ہی ہوگا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے لیے رسد پہنچانے کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران نیٹو اور امریکی رسد کے قافلے شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں جس کے بعد سے امریکہ کو متبادل راستے کی ضرورت تھی۔