نو عمروں کی شراب نوشی پر پابندی

بار
،تصویر کا کیپشنقانون پر عمل نہ ہونے کی صورت میں یا تو والدین یا پھر دوکاندار پر جرمانہ عائد کیا جائےگا

میلان نے کثرت سے شراب نوشی کو روکنے کے لیے نو عمر لوگوں کو شراب فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سولہ سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکیاں اگر شراب نوشی کے لیے پکڑے گئے تو ان کے والدین پر تقریباً پانچ سو یورو تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہر میں گیارہ سال تک کے ہر تیسرے بچے کو شراب نوشی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صدیوں سے وائن مقامی ثقافت کا حصہ رہی ہو وہاں یہ پابندی لوگوں کے لیے ایک بہت حیران کن اقدام ہے۔

ملک میں نوجوانوں اور خاص کر کے گیارہ سال تک کے بچوں میں بڑھتی ہوئی شراب نوشی شدید تشویش کا سسب رہی ہے۔

اب شراب خانوں، ریستوراں، پیزا شاپ اور شراب کی دکانوں میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو شراب فروخت کرنے پر پابندی ہے۔قانون پر عمل نہ ہونے کی صورت میں یا تو والدین یا پھر اس دکاندار پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جس نے انہیں شراب فروخت کی ہوگی۔

ماضی میں کئی مرتبہ اطالوی بچوں کو پانی کی جگہ وائن دے دی جاتی تھی کیونکہ پانی اکثر آلودہ ہوا کرتا تھا۔