ایشیا میں صدی کا طویل ترین گرہن

ایشیا میں بائیس جولائی کو لاکھوں لوگوں نے موجودہ صدی کے طویل ترین اور مکمل سورج گرہن کو دیکھا ہے۔
بدھ کی صبح جیسے ہی سورج گہنانا شروع ہوا، چین اور بھارت کے کچھ علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ اس فلکی نظارے کو دیکھنے کے لیے سائنسدان اور شوقین حضرات پہلے ہی سے ان علاقوں میں جمع تھے جہاں سورج کو گرہن لگنا تھا۔
سب سے قبل سورج گرہن مشرقی بھارت میں شروع ہوا۔ یہاں کے علاقوں میں بادلوں کی وجہ سے لوگ بھر پور انداز میں اس نظارے کو نہ دیکھ سکے۔ بعض لوگوں نے جہاز پر بیٹھ کر اس گرہن کو اکتالیس ہزار فٹ کی بلندی سے دیکھا۔
انڈیا میں مندر کے پجاریوں نے کہا کہ گرہن سے دیویوں اور دیوتاؤں کی طاقت کم ہوجاتی ہے۔ جوں ہی گرہن شروع ہوا مندروں کے دروازے بند کردیئے گئے۔ پجاریوں کا کہنا تھا کہ گرہن ختم ہونے پر پوجا پاٹ کی جائے گی۔
سورج گرہن مشرق کی طرف رواں ہے اور یہ نیپال، برما، بنگلہ دیش، بھوٹان اور چین سے گزرے گا۔ جاپان کے بعض جنوبی جزیرے میں بھی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔
بھارت میں پٹنہ کے قریب واقع ایک گاؤں میں تحقیق کاروں کا اجتماع ہے کیونکہ یہیں سے سورج گرہن واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
بھارتی سائنسدان پنکج بھاما نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس سورج گرہن کو دیکھنے سے امید ہے کہ اجرامِ فلکی کی ساخت سے متعلق کچھ مشاہدات ہوں گے۔
.
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















