عراق سے نکلنے کے عہد پر قائم ہیں: اوباما

امریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم کے درمیان ان ’پرائیویٹ‘ مذاکرات کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ عراق میں پیشرفت سے خوش ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے وقتوں میں تشدد جاری رہ سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم کے درمیان ان ’پرائیویٹ‘ مذاکرات کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ عراق میں پیشرفت سے خوش ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے وقتوں میں تشدد جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں تشدد جاری رہنے کے خدشے کے باوجود امریکہ سنہ دوہزار گیارہ کے آخر تک عراق سے اپنی تمام افواج نکالنے کے عہد پر ثابت قدم ہے۔

وائٹ ہاؤس میں عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات کے بعد صدر اباما نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام کے ساتھ تبدیلی کے ایک دور سے گزررہے ہیں۔

صدر اوباما نے یہ بھی باور کرایا کہ امریکہ عراق میں نہ مستقل اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی عرا ق کے کسی حصے پر قابض ہونا چاہتا ہے۔امریکی صدر نے کہا ’ ہم اپنی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھتے ہوئے عراق میں موجود تمام امریکی بریگیڈز کو ذمہ داری کے ساتھ اگلے سال اگست تک ہٹالیں گے اور ہم دو ہزار گیارہ تک عراق سے تمام امریکی فوجیوں کو نکالنے کے اپنے عہد کو بھی پورا کریں گے‘۔

عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق فرقہ وارنہ تلخی سے آزاد ملک بننے کی کوششوں میں کیونکہ سنہ دو ہزار تین میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد فرقہ واریت ہی کی وجہ سے تشدد جاری ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ عراقی افواج اب شہروں اور اہم قصبوں میں سکیورٹی سنبھال چکی ہیں اور وہ اس کام کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں۔امریکی صدر کا یہ بیان عراق کے شہروں اور قصبوں سے امریکی افواج کے اپنے اڈوں میں چلے جانے کے تناظر میں تھا۔

اسی دوران عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے حملے بھی کیے گئے ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار چاہیں گے کہ عراق کی معیشت عدم استحکام کا شکار رہے۔حالیہ مہینوں میں عراق میں تشدد کافی حد تک قابو میں رہا ہے لیکن جون کے مہینے میں جب امریکی فوجی عراقی شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر واپس اڈوں میں گئے تو شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم کے درمیان ان ’پرائیویٹ‘ مذاکرات کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ عراق میں پیشرفت سے خوش ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے وقتوں میں تشدد جاری رہ سکتا ہے۔

’عراقی سکیورٹی افواج پر حملے ہوں گے اور ان فوجیوں کی حمایت کرنے والے امریکی فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ عراق میں ابھی ایسے لوگ ہیں جو بے گناہوں کو ماریں گے اور وہ بھی ہیں جو مذہبی منافرت کو ابھاریں گے۔ لیکن کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ایسی کوششیں بالآخر ناکام ہوں گی۔‘