اعضاء کاٹنے سےگریز کریں: ملا عمر

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان میں طالبان سربراہ ملا عمر نے انسانی جسم کے اعضاء کاٹنے کو ایک’غیر اسلامی‘ فعل قرار دیتے ہوئے طالبان سے کہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو اس قسم کی سزائیں دینے سے گریز کریں۔
افغان طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ملاعمر کے جاری کردہ احکامات کا اطلاق صرف افغان طالبان پر ہوتا ہے مگر وہ پاکستانی طالبان جو ملا عمر کو اپنا امیر سمجھتے ہیں وہ بھی اخلاقی طور پر انہدایات پر عمل کرسکتے ہیں۔
ملا عمر کا یہ حکم افغانستان میں سرگرم طالبان کے لیے حال ہی میں ’ مجاہدین کا ضابطہ اخلاق‘ کے نام سے ساٹھ صفحوں پر مشتمل جاری کردہایک کتابچے کا حصہ ہیں۔
افغانستان سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق افغان طالبان شورٰی کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اس ضابطہ اخلاق کا مقصد دراصل بیرونی افواج کے خلاف لڑنے کے حوالے سے طالبان کمانڈروں اور جنگجؤوں کو نئی حکمت عملی اپنانے اور ساتھ میں افغان عوام کا دل جیتنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاعمر نے کہا ہے کہ انسانی جسم کے اعضاء کاٹنا ایک غیر اسلامی فعل ہے لہذا طالبان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مخالفینکو اس قسم کی سزائیں نہ دیں۔اسکے علاوہ ان کے بقول ملا عمر افغان طالبان سے کہا ہے کہ وہ اپنی کاروائیوں کے دورانمعصوم شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کے لیے عام آبادی میں خودکش حملے نہ کریں بلکہ خودکش حملوں میں اصل ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جائے۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ملا عمر کے احکامات پر مشتمل اس کتابچے کی بیس ہزار کے قریب کاپیاں طالبان کمانڈروں اور جنگجوؤں میں تقسیم کی ہیں۔
طالبان ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ملا عمر کی جانب سے تحریری طور پر جاری ہونے والے ان احکامات کا اطلاق کیا پاکستانی طالبان پر بھی ہوجاتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’ ان احکامات پر عمل کرنا صرف افغان طالبان پر لازم ہے، ہاں اگر پاکستانی طالبان ملا عمر کو اپنا امیر سمجھتے ہیں تو وہ اخلاق طور پر ان پر عملدرآمد کرسکتے ہیں‘۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سرگرم طالبان رہنماؤں بیت اللہ محسود، مولانا فقیر اور دیگر طالبان قیادت ملا عمر کو اپنا امیر سمجھتے ہیں اور انہیں ’ امیر ملا محمد عمر مجاہد‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔
اگرچہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان ایک مسلح گروپ کے طور دونوں ملکوں میں گزشتہ کئی سالوں سے لڑرہے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو انسانی جسم کے اعضاء کاٹنے کے واقعات افغانستان کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ پیش آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ نے دو دن قبل اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ افغانستان میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ایک ہزار کے قریب شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر طالبان کی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے چار سو شہری طالبان کی جانب سے ہونے والے خودکش حملوں اور بم دھماکوں جبکہ دو سو اتحادی افواج کی بمباری میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ان اعداد وشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اتحادی افواج کے مقابلے میں طالبان کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دوگنی ہے اور مبصرین کے بقول شاید طالبان شہریوں میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے اس قسم کے احکامات جاری کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔





















