’مذاکرات چاہتے ہیں مگر اشتراکیت پرنہیں‘

راؤل کاسترو
،تصویر کا کیپشن’امریکہ کیوبا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر باعزت طریقے سے مذاکرات کرے۔‘ راؤل کاسترو

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں لیکن ملک میں رائج اشتراکی نظام پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کا جواب دیں جس میں انہوں نے مذاکرات کو کیوبا میں اصلاحات کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں مسز کلنٹن اور یورپ کو عزت و احترام کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے صدر اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ میں کیوبا میں سرمایہ دارانہ نظام کو بحال کروں اور انقلاب کو رد کر دوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’مجھے اشتراکی نظام کے دفاع، اس کو برقرار رکھنے اور مکمل طور پر اس کے نفاذ کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے منتخب کیا گیا نہ کہ اس کی تباہی کے لیے۔‘

مسٹر کاسترو نے جب اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ وہ اس لیے صدر منتخب نہیں کیے گئے تھے کہ وہ کیوبا کو سرمایہ دارانہ نظام کی طرف واپس لے جائیں تو پارلیمان میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کیوبا کے ساتھ اپنے تعلقات دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں تاہم اس کے لیے امریکہ نے کیوبا سے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

کیوبا کے صدر کا کہنا تھا کہ کیوبا پر کئی دہائیوں سے لگی امریکی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ماضی کی نسبت اوباما انتظامیہ کا رویہ کیوبا کے خلاف زیادہ جارحانہ نہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کیوبا چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر با عزت طریقے سے مذاکرات کرے۔‘

مسٹر راؤل نے تین سال قبل اس وقت کیوبا کا اقتدار سنبھالا جب ان کے بڑے بھائی فیڈل کاسترو کوآپریشن کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں چھوڑنی پڑیں لیکن باضابطہ طور پر انہوں نے صدارت کی کرسی گزشتہ سال سنبھالی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فیڈل کاسترو اور ہماری موت کے بعد کیوبا کا سیاسی نظام لڑکھڑا جائے گا توانہیں سخت مایوسی ہوگی۔‘