اوباما کی کیوبا کو ’نئے آغاز‘ کی پیشکش

اوباما اجلاس کے دوران
،تصویر کا کیپشناوباما چاہتے ہیں کہ برِ اعظم کے ممالک کے ساتھ برابری کے تعلقات چاہتے ہیں

امریکہ نے نصف صدی سے زائد عرصے سے نافذ کیوبا کے خلاف سفری پابندیاں اٹھالی ہیں جبکہ کیوبا رقم بھیجنے کی بھی اب اجازت ہوگی۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کے برعکس اب تک کیوبا پر امریکی پالیسی کا محور تادیبی اقدامات اور پابندیاں ہی رہی تھیں۔

صدر اوباما کی انتظامیہ کے یہ اقدامات پچھلے پچاس برسوں کی کیوبا پر امریکی پالیسی کی بالکل نفی ہیں جن کا محور امریکی ریاست فلوریڈا سے ذرا ہی فاصلے پر خلیج میکسیکو کے ساتھ واقع اس چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کے خلاف تادیبی اقدامات اور ہر طرح کی معاشی اور اقتصادی پابندیاں رہی تھیں۔

تازہ امریکی اعلان سے امریکہ میں مقیم لاکھوں کیوبن باشندوں کےلیے اپنے وطن جاکر اپنے عزیز و اقارب اور خاندان والوں سے بلا کسی دشواری ملنا ممکن ہوسکے گا جبکہ وہ کیوبا میں لوگوں کو رقوم بھی باآسانی بھجوا سکیں گے۔

ان اقدامات کے حوالے سے امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ کیوبا پر گزشتہ پچاس برسوں کی امریکی پالیسی ناکام رہی ہے۔

اوباما اور شاویز
،تصویر کا کیپشناوباما نے رک کر وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز کے ساتھ ہاتھ ملایا

امریکہ کی جانب سے یہ اعلانات براعظم امریکہ کے ملکوں کی تنظیم کے کیریبئین کے ملک ٹرینیڈاڈ میں سربراہ اجلاس سے ذرا پہلے کیے گئے ہیں۔ صدر اوباما اس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے اب ٹرینیڈاڈ پہنچ چکے ہیں۔ ان اقدامات کے اعلان کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بہتری کے لیے اب کیوبا کو قدم بڑھانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا: ’کیوبن حکومت کی جانب سے ایسے بہت سے قدم اٹھائے جاسکتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہونا شروع ہوجائے گا کہ وہ بھی گزشتہ پچاس برس کے لگے بندھے راستے سے ہٹنا چاہتے ہیں۔ مجھے بڑی امید ہے کہ بہتر تعلقات کے لیے پیشرفت کی جاسکتی ہے بشرطیکہ روح مستقبل کی جانب دیکھنا ہو ناکہ ماضی میں پھنسے رہا جائے۔‘

امریکی اقدامات اور اعلانات کے جواب میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے بھی خاصی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ انہوں نے ٹرینیڈاڈ سربراہ اجلاس سے پہلے وینیزویلا کے دورے میں کہا کہ مذاکرات برابری کی سطح پر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے شمالی امریکہ کی حکومت کو نجی طور بھی اور کھلے عام بھی یہ بات باور کرائی ہے کہ وہ جب بھی انسانی حقوق، پریس کی آزادی ، سیاسی قیدیوں کا معاملہ غرض ہر ہر چیز جس پر وہ بات کرنا چاہیں تو ہم بھی اس پر تیار ہیں لیکن مساوی بنیادوں پر۔ ہماری خودمختاری پر معمولی سے سایہ پڑے بغیر اور کیوبن باشندوں کی حق حاکمیت کی معمولی سے بھی خلاف ورزی کے بغیر۔‘

کیوبا براعظم امریکہ کے ملکوں کی تنظیم کا رکن نہیں ہے لیکن نامہ نگاروں کے مطابق کیوبا اور امریکہ کے تعلقات اس سربراہ اجلاس پر چھائے رہیں گے۔

تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے مطابق وہ ٹرینیڈاڈ کے سربراہ اجلاس میں کیوبا کو تنظیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کریں گے۔