بدلتی امریکی پالیسی

امریکی صدر براک اوباما کے انسداد دہشت گردی کے امور کے مشیر جان برینن نے اپنے پہلے کھلے خطاب میں سابق صدر جارج بش کی دہشت گردی سے متعلق پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
صدراو باماکے انسداد دہشتگردی کےمشیر نے یہ تقریر امریکہ پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کی برسی سے کچھ ہفتے قبل کی ہے جس کی وجہ سے سیاسی مبصرین اسے خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔
جان برینن نے واشنگٹن کے سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بش انتظامیہ کی پالیسیاں امریکی اقدار کے خلاف تھیں اور ان کی وجہ سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔ مسٹر برینن کے بقول ان پالیسیوں سے القاعدہ کے پاگل پن کے نظریات کو تقویت ملی۔
مسٹر برینن نے کہا کہ اوباما انتظامیہ دہشت گردی کی تنگ دوربین سے صورتحال کو دیکھنے کے بجائےاوریہکہنے کی بجائے کہ آپ یا ہمارے ساتھ ہیں یا دشمن کے ساتھ ہیں، یہ کوشش کر رہی ہے کہ وسیع بنیادوں پر ممالک اور لوگوں کے گروپوں سے گفت و شنید شروع کی جائے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹر برینن نے جو سخت لب و لہجہ اختیار کیا ہے اس پر ریپبلکن ضرور برہم ہوں گے اور الفاظ کی جنگ شروع ہوجائے گی۔
امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے پہلے ہی صدر اوباما کی انتظامیہ پر سخت تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے ان طریقوں سے کنارہ کشی اختیار کی ہے جن کی بدولت ملک کو محفوظ بنایا گیا تھا۔ ڈک چینی نے صدر اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں صدر اوباما کی انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ اہلکاروں نے حکومت کی قومی سلامتی سے متعلق پالیسی واضع کی ہے۔
مسٹر برینن نے کہا کہ امریکہ شدت پسندی کے خلاف صرف سی آئی اے کے استعمال اور القاعدہ اہداف پر حملوں سے آگے بڑھ کر سوچنے اور مسلم دنیا میں غربت کے خاتمے، معاشی ترقی اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی لازمی طور پر کام کرے کیونکہ یہی وہ حالات ہیں جن میں دہشت گردی پروان چڑھتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان وجوہات کو ختم نہیں کریں گے تو ہمیشہ کوئی نہ کوئی شدت پسندی کے لیے تیار ہوگا اور حملے ہوتے رہیں گے۔
مسٹر برینن نے اپنی پالیسی کو کثیرالجہتی قرار دیا جس میں امریکی فوج کے ذریعے اتحادی ممالک کی فوجوں کو تربیت دینا، جمہوری اصلاحات کی حمایت کرنا اور پاکستان اور افغانستان کے پسماندہ خطوں کو اربوں ڈالر کی امداد دینا شامل ہے۔





















