فرانس میں برقعے پر پابندی کا مطالبہ

فرانس کی ایک خاتون وزیر نے مطالبہ کیا ہے کہ فرانس میں مسلمان خواتین کے برقع پہننے پر پابندی عائد ہونا چاہیے۔
فرانس کی الجزائری نژاد مسلمان خاتون وزیر فضیلہ عمارہ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ برقعے کا استعمال عورت سے زیادتی کے مترادف ہے اور اس پر پابندی سے ریڈیکل اسلام جیسے کینسر سے لڑا جا سکتا ہے۔
فرانس کی سیاسی اور سماجی زندگی میں مسلمان خواتین کے برقعے یا حجاب کا معاملہ اس وقت سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جب فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے علی الاعلان کہا تھا کہ اس طرح کے لباس کا فرانس میں خیر مقدم نہیں کیا جا سکتا۔
فرانس کے سکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی ہے اور ایک پارلیمانی کمیٹی اس وقت حجاب پر مکمل پابندی کے فائدے اور نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
فضیلہ عمارہ شہری زندگی کی تعمیر کی وزیر ہیں اور وہ جس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ان کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان خواتین کو اگر برقعے سے نجات مل جائے تو انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔
فضیلہ عمارہ نے الجزائر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ برقعے یا حجاب کے ذریعے بنیادی قسم کی شہری آزادیوں کے تصور کی بیخ کنی کی جاتی ہے۔
دوسری طرف کئی مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا برقعے پر پابندی سے فائدہ بھی ہو گا؟ کیونکہ فرانس جیسے ملک میں جہاں لاکھوں مسلمان آباد ہیں اور صرف چند سو خواتین حجاب یا برقعے میں نظر آتی ہیں۔
فرانس میں مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم فرینچ کونسل آف مسلمز کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے مذہب اسلام کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذہبی طرز کے لباس کا استعمال فرانس میں ایک حساس نوعیت کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جمہوری اور آزاد اقدار کے حامی کہتے ہیں کہ اس قسم کے لباس کی فرانسیسی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسی وجہ سے سم دو ہزار چار میں سکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اب اگر سڑکوں اور گلیوں میں بھی حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے تو یہ ایک انقلابی اقدام سمجھا جائے گا۔







