افغانستان: تین اور برطانوی فوجی ہلاک

برطانوی فوجی
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی 204 تک پہنچ گئی ہے

جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں تین مزید برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 204 تک پہنچ گئی ہے۔

حالیہ چند ہفتوں میں نیٹو افواج خصوصاً برطانوی افواج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جولائی کے مہینے میں برطانیہ کے چوبیس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ زخمی فوجیوں کا ریکارڈ نہیں رکھتا۔

تین برطانوی فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ صوبہ ہلمند کے علاقے سنگین میں پیٹرول پر تھے کہ ان گاڑی ایک بم کے ساتھ ٹکرا گئی۔ افغان مزاحمت کاروں نے روڈ سائیڈ بموں کا استعمال انتہائی موثر انداز میں کیا ہے اور ابتک ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی اکثریت روڈ سائیڈ بموں کے باعث ہوئی ہے۔

تین برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ افغانستان میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد دو سو چار تک پہنچ گئی ہے۔ دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد پہلے پانچ سالوں میں برطانیہ کے صرف پانچ فوجی ہلاک ہوئے تھے لیکن بعد برطانوی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوتا گیا۔ پچھلے چودہ ماہ میں ایک دو برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے برطانیہ میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ کیا افعانستان کی جنگ میں برطانیہ کو شریک رہنا چاہیے یا فوجیوں کو وطن واپس بلا لینا چاہیے۔ ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے ستاون فیصد شہری چاہتے ہیں کہ برطانوی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا جانا چاہیے۔

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ برطانوی فوجی افغانستان میں نیٹو افواج کے شانہ بشانہ دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔