افغانستان: برطانوی ہلاکتوں کی تعداد 200

ہلمند میں زخمی ہونے والے ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد دو سو ہو گئی ہے۔
رائل ویلش کی دوسری بٹالین سے تعلق رکھنے والا یہ فوجی برمنگھم کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ یہ فوجی جمعرات کو افغان صوبے ہلمند میں گشت کے دوران ایک دھماکے میں زخمی ہوا تھا۔
برطانوی فوج کو زیادہ تر جانی نقصان ’پینتھر کلا‘ یا چیتے کے پنجے کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران ہوا ہے جو ہلمند صوبے سے طالبان کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
اس کارروائی میں تین ہزار برطانوی فوجی شریک ہیں اور یہ جون کی انیس تاریخ کو شروع کی گئی تھی۔
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اس ہلاکت کو انتہائی افسوسناک خبر قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے شروع کیا جانے والا مشن جاری رکھا جائے گا۔
’آج کا دن افسوس کا دن ہونے کے ساتھ ساتھ تفکر کا دن بھی ہے۔ میں تمام مسلح افواج اور فوجیوں کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان برادریوں کا جو اس مشن میں افواج کے ساتھ ہیں۔‘
اس ماہ نو برطانوی فوجی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں جو صدارتی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر دفاع باب اینزورتھ نے کہا ہے کہ دو سویں برطانوی فوجی کی ہلاکت نے آج کے دن کو ایک افسوس ناک دن بنا دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ برطانوی فوج اپنے مشن کی تکمیل کے سلسلے میں اچھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ برطانوی فوج کا طالبان کے خلاف حالیہ آپریشن ایک مشکل مشن تھا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ آپریشن پینتھرز کلا کے ذریعے اسی ہزار افغانوں کو طالبان کے ظلم و جبر سے نجات حاصل ہوئی ہے۔





















