افغان انتخابات سے قبل ہلاکتیں

کابل
،تصویر کا کیپشنکابل میں انتخابات سے قبل سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیئے گئے ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخاب سے ایک روز قبل کابل میں نیٹو فوج کے قافلے پر ایک خود کش کار بم حملے میں نیٹو فوج اور سرکاری اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ اس خود کش حملے میں اس کا ایک فوجی، اقوام متحدہ کے دو اہلکار اور سات عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس کار بم حملے میں جو بظاہر صدارتی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش ہے، پچاس کے قریب افراد زحمی ہوئے ہیں۔

یہ خود کش حملہ انتخابات سے قبل انتہای سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود ہوا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دو فوجی ملک کے مشرقی حصے میں ایک اور بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل میں ہونے والے خود کش حملے سے چند گھنٹے قبل صدارتی محل پر ایک راکٹ داغا گیا جس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ جنوبی افغانستان کے صوبے ارزگان صوبے میں منگل کو تین افغان فوجی ایک اور خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ خودکش حملہ آور پیدل چلتا ہوا ایک چیک پوسٹ پر آیا اور پھر دھماکے سے اپنے آپ کو اڑا لیا۔

جمعرات کو ہونے والے ان انتخابات میں عام خیال یہی ہے کہ صدر حامد کرزائی دوبارہ منتخب ہو جائیں گے۔ تاہم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے مطابق انہیں سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کی طرف سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔

بی بی سی کے نمائندے ہیو سکائیز نے کابل سے اطلاع دی ہے کہ ان بم دھماکوں کا مقصد ووٹروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کیئے جا رہے تاکہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئیں۔

طالبان نے کابل میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جو کابل میں جلال آباد روڈ پر ہوا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک نامہ نگار نے جو دھماکے کے عینی شاہد تھے کہا کہ دھماکے کے بعد برطانوی فوجی اردگرد کی عمارتوں کی چھتوں سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے سمیٹ رہے تھے۔