الیکشن میں ’دھاندلی کے شواہد‘

افغان انتخاب
،تصویر کا کیپشنطالبان کی دھمکی کی وجہ سے خدشات ہیں کہ انتخاب میں بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے آئیں گے

بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں رواں ماہ کی بیس تاریخ کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوران دھاندلی اور غبن کے شواہد ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ووٹنگ کارڈ فروخت کرنے کے علاوہ ووٹ خریدنے کے لیے ہزاروں امریکی ڈالروں کی رشوت کی پیشکشیں کی جا رہی ہیں۔

جمعرات کے روز ہونے والے انتخاب کے لیے انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے اور موجودہ صدر حامد کرزئی کے مقابلے میں اکتالیس امیدوار ہیں۔

بی بی سی کے لیے کام کرنے والے ایک افغان شہری نے کابل میں ووٹنگ کارڈز کے فروخت کیے جانے کی اطلاعات کی تحقیقات کی ہیں۔ انہیں ایک ہزار انتخابی پرچیاں فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی جبکہ ایک پرچی کی قیمت دس امریکی ڈالر تھی۔اسی طرح کی پیشکش ایک دوسرے شخص نے بھی کی۔

بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار این پینل کے مطابق یہ جاننا نا ممکن ہے کہ کتنی تعداد میں ووٹنگ کارڈ فروخت ہو چکے ہیں لیکن اس سلسلے میں کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو بڑی تعداد میں ووٹنگ کارڈ جاری کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری عملہ غیر قانونی طریقے سے بعض امیدواروں کی مہم چلانے میں مصروف ہے۔

شمالی افغانستان میں ایک بااثر قبائلی سردار نے بتایا کہ انہیں انتخابی مہم چلانے والی ٹیموں کی جانب سے ووٹوں کے بدلے ہزاروں برطانوی پاؤنڈز کی پیشکش کی گئی ہے۔انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے ایک آزاد گروپ کے مطابق انہوں نے انتخاب میں دھاندلی کے حوالے سے ثبوت حکام کے حوالے کیے تھےلیکن ان کی اطلاع پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب عسکریت پسندوں نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ اور انتخاب میں رکاوٹ ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ رواں ماہ عسکریت پسندوں نے کابل کو دو بار حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

صدارتی انتخاب کے دوران پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور طالبان کی جانب سے انتخاب میں حصہ لینے والے لوگوں کو دھمکیاں ملنے کی وجہ سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ انتخاب میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد کم رہے گی۔

بی بی سی افغان سروس کے ایک سروے کے مطابق افغانستان کے تیس فیصد حصے پر حکومت کا کنٹرول محدود یا بالکل نہیں ہے۔