’قیدیوں کی معلومات ریڈ کراس کے حوالے‘

امریکی فوجی بگرام میں
،تصویر کا کیپشنامریکی محکمۂ دفاع نے اطلاعات پر تبصرے سے انکار کیا ہے

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے پہلی مرتبہ عراق اور افغانستان کے خفیہ حراستی مراکز میں موجود مشتبہ دہشتگردوں کی معلومات عالمی ریڈ کراس کو فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

یہ خبر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے جاری ہے تاہم عالمی ریڈ کراس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس نئی پالیسی کے تحت امریکہ حراست میں لیے جانے والے مشتبہ افراد کے بارے میں دو ہفتوں کے اندر ریڈ کراس کو معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس عمل کا آغاز ماہِ رواں سے ہوا ہے تاہم اس کی کوئی تشہیر نہیں کی گئی۔

نامہ نگاروں کے مطابق اگر اس خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اسے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی فتح تصور کیا جائے گا۔

تین سینئر اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے نیوریاک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ریڈ کراس کو ان درجنوں قیدیوں تک رسائی مل جائے گی جو غیر ملکی جنگجو ہونے کے شبہ میں عراق اور افغانستان میں زیرِ حراست ہیں۔

ان افراد کو عراق میں بلاد اور افغانستان میں بگرام میں خفیہ مقامات پر قائم ’سکریننگ مراکز‘ میں رکھا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے بھی ان تازہ اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ ماضی میں امریکی محکمۂ دفاع یہ کہتا آیا ہے کہ ان قیدیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے نقصان دن ثابت ہو سکتا ہے۔

سابق امریکی صدر بش کے حراستی پالیسی رواں ہفتے میں ایک مرتبہ پھر اس وقت زیرِ بحث آنے والی ہے جب سنہ 2004 کے بعد سے سی آئی اے کے تفتیشی حربوں پر ایکمشاہداتی رپورٹ کی تفصیلات منظرِ عام پر آئیں گی۔