محبت بھی، نفرت بھی

بش، مش
،تصویر کا کیپشن’بش کے ایک فون پر طالبان اور افغان پالیسی میں پرویز مشرف کا ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن کسے یاد نہں‘
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

انگریزی میں اسے کہتے ہیں ’لوّ ہیٹ ریلیشن‘۔ میرے خیال میں اس کا اردو میں ٹھیک ٹھیک متبادل نہیں ہے لیکن اگر ماضی کی ایک اردو فلم کا نام مستعار لیا جائے تو کہیں گے ’محبت بھی، نفرت بھی‘۔

آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ میں کیوں اتنی مشکل میں پڑ گیا ہوں؟ بات دراصل یہ ہے کہ جب سے واشنگٹن آیا ہوں میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر غور کر رہا ہوں اور سمجھنے سے قاصر ہوں۔

امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ امداد اسرائیل کو دیتا ہے دوسرے نمبر پر مصر کو اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے لیکن پاکستان کو ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی نہیں دے گا حالانکہ پاکستانی حکام اس ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی بے تاب ہیں۔

پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا امریکہ کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے امریکہ کے ایک اشارے پر پاکستانی فوج اور سویلین کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں (نواز شریف کا کلنٹن کے کہنے پر کارگل سے اتر آنا اور بش کے ایک فون پر طالبان اور افغان پالیسی میں پرویز مشرف کا ایک سو اسی ڈگری کا ٹرن کسے یاد نہیں) لیکن یہی حکمران کھلم کھلا یہ کبھی نہیں کہتے کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں اور اس کی پالیسی پر چلے بغیر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔

پاکستانی حکام بظاہر کہتے ہیں کہ اسلامی شدت پسندی ملک کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جاری آپریشن ملک کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ اہلکار کی کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی وہ ’آف دی ریکارڈ‘ بریفنگ بھی یاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیت اللہ محسود اور دیگر طالبان محب وطن ہیں۔ (اب میں یہ پوچھنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا کہ جو محب وطنوں کے خلاف فوجی آپریشن کرے اسے کیا کہا جائے؟)

پچھلے دنوں امریکی اخبارات میں حکام کے حوالے سے یہ الزامات لگائے گئے کہ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اسی کی دہائی میں دیے گئے ہارپون میزائلوں میں غیر قانونی ردوبدل کرکے ان کو سمندر سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آئے دن پاکستان کے خلاف خبریں چھپتی رہتی ہیں۔

لیکن جب حکومتی کارندوں سے خبروں کی تصدیق یا تردید کے لیے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم نے بھی خبریں پڑھی ہیں ان خبروں کو ہم سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور ابھی تفتیش کر رہے ہیں جب تصدیق ہوگی تو اپنا ردِ عمل دیں گے۔ یعنی وہ آن دی ریکارڈ کچھ نہیں کہتے۔

نواز ، ہل بروک
،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ نواز شریف نے کارگل سے واپسی کا فیصلہ امریکی صدر بِل کلنٹن کے فون پر کیا۔

امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کو اپنا ساتھی کہتا ہے اور اسے بہت اہمیت دیتا ہے لیکن اس کو اتنا غیر مستحکم سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا اس طرح کا معاہدہ نہیں کر سکتا جو امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ کیا ہے۔

پاکستان نے درجنوں مشتبہ افراد کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے اس طرح کیا ہے جیسے تھر میں غریب ہاری تلور پکڑ کر عرب شیخوں کو دیتے ہیں لیکن امریکہ پاکستان کے ایٹمی سائینسدان ڈاکٹر اے کیو خان تک رسائی کی بارہا کوشش کر چکا ہے لیکن اے کیو خان تک امریکہ کی رسائی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے قومی وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

صدر زرداری ستمبر کے اوآخر میں پھر امریکہ آ رہے ہیں۔ یہاں ’فرینڈز آف پاکستان‘ کا اجلاس ہے جو پاکستان کو چندہ دینے پر غور کرے گا۔ پاکستان پھر کشکول لیے کھڑا ہوگا اور کہے گا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ہمیں مزید پیسے دیں۔

کیا نام دیا جائے امریکہ اور پاکستان کے رشتے کو؟ اس کا جواب بہت پیچیدہ ہے۔