اقوام متحدہ کندوز کی تحقیقات کرے: طالبان

طالبان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ جمعہ کو شمالی افغانستان میں آئیل ٹینکروں پر ہونے والے ہوائی حملے کی تحقیقات کرے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
غیر سرکاری تنظیم افغانستان رائٹس مانیٹر کا کہنا ہے کہ صوبہ کندوز میں ہونے والے اس حملے میں ستر کے قریب عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
نیٹو طیاروں نے دو ایسے آئیل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جسے مزاحمت کاروں نے اغواء کر لیا تھا۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ طالبان کا مطالبہ اس کی عمومی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے کیونکہ اب تک طالبان افغانستان میں کسی بھی طرح کی بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
درایں اثنا امریکی فوج کو سویڈن کی ایک تنظیم کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی مزاحمت کاروں کی تلاش کرتے ہوئے ایک ہسپتال میں گھس گئے تھے۔
افغانستان کے وردگ صوبے میں ایک ہسپتال چلانے والی تنظیم دی سویڈش کمیٹی فار افغانستان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ہسپتال کی مختلف وارڈوں کی تلاشی لیتے ہوئے اس کے ملازمین کو دو گھنٹے تک باندھے رکھا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور یہ کہ اس سے امدادی کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔
حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی روک تھام اور افغان آبادی کی دفاع افغانستان میں امریکہ کے نئے کمانڈر جنرل سٹینلے میکرسٹل کی طرف سے وضع کردہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کے شمالی حصہ میں ہونے والے فضائی حملے کے بعد جنرل میکرسٹل نے ٹی وی پر آکر بیان دیا جس میں انہوں نے افغانوں سے مخاطب کر کے کہا کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ آئیل ٹینکروں پر ہونے والے حملے میں طالبان جنگجو ہلاک ہوئے تھے لیکن عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔
طالبان کا کہنا ہے کہ حملے میں ڈیڑھ سو عام شہریی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔
شمالی انغانستان کے علاقے کندوز میں جمعہ کو ہونے والا حملہ ایک جرمن کمانڈر کے کہنے پر کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے دو نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔
دوسری طرف جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے بھی کہا ہے کہ شمالی افغانستان میں حال ہی میں ہونے والے اس فضائی حملے کی فوری تحقیقات ہونی چاہیں جس میں افغانستانی حکام کے مطابق ستر کے قریب شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
مرکل نے کہا کہ اگر کندوز میں شہریوں کی ہلاکتیں ثابت ہوئی تو انہیں اس پر یقیناً افسوس ہوگا۔ اینجلا مرکل جرمنی میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔
کندوز میں جمعہ کو طالبان نے تیل کے دو ٹینکر اغوا کر لیے تھے جس کے بعد ایک جرمن کمانڈر نے فضائیہ کی مدد طلب کی تھی۔ جرمنی میں جہاں ستائیس ستمبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے کندوز میں اس فضائی حملے کے بعد طوفان برپا ہو گیا ہے۔






















