نیٹو کا حملہ، نوے افراد ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں ایک چوری ہونے والے تیل کے ٹینکر پر نیٹو طیاروں کی بمباری کے بعد ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں کم از کم نوے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
<link type="page"><caption> نیٹو بمباری کے بعد تباہی: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/09/090904_tanker_attack.shtml" platform="highweb"/></link>
نیٹو حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صوبہ کندوز میں بغلان کی مرکزی شاہراہ پر کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس کے سربراہ بشریار پروانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان باغی ہائی وے پر سے ایک تیل کا ٹینکر ہائی جیک کرنے کے بعد اسے کہیں لے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’ٹینکر ایک دریا میں عبور کرتے ہوئے پھنس گیا۔ جس وقت طالبان پر بمباری کی گئی اس وقت مقامی لوگ بھی ان کے ہمراہ تھے۔‘
شدید زخمی افراد کو کندوز کے ایک ہسپتال میں لایا گیا ہے۔
کندوز کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ تیل کے ٹینکرز کی تباہی کے نتیجے میں سینیئر طالبان کمانڈرز ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیق کر رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے نیٹو کے دو تیل کے ٹینکرز کو جمعرات کی رات اغوا کیا تھا لیکن وہ ٹینکر بعد میں مٹی میں دھنس گئے۔ طالبان ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ٹینکرز کیسے دھنس گئے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان نے فیصلہ کیا کہ ان ٹینکرز میں سے تیل نکال لیا جائے اور اس کے ساتھ ہی عام شہری بھی تیل لینے پہنچ گئے۔ اور اس موقعے پر نیٹو نے فضائی حملہ کیا۔
بین الاقوامی افواج ایساف کے کابل میں ترجمان نے بتایا کہ ایساف نے تیل کے ٹینکرز کو دریا کندوز کے کنارے دیکھا اور ایساف کے مقامی کمانڈر نے ان کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں دونوں ٹینکر تباہ ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک عینی شاہد بتیس سالہ محمد داؤد نے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان ان ٹینکروں کو دریا کے دوسرے کنارے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ ایک ٹینکر دریا کے دوسرے کنارے لے جانے میں کامیاب ہو گئے لیکن دوسرا زمین میں دھنس گیا۔ ’چنانچہ طالبان نے مقامی افراد کو کہا کہ وہ آ کر تیل نکال لیں۔‘
محمد داؤد کے مطابق مقامی افراد ٹینکر کے گرد جمع ہو گئے اور تیل نکال رہے تھے کہ حملہ ہو گیا۔ حملے کے وقت ٹینکر کے اوپر دس سے پندرہ طالبان تھے۔ حملے کے نتیجے میں تیل کے ٹینکر کے آس پاس جتنے افراد موجود تھے وہ سب ہلاک ہو گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس نے بتایا کہ اس حملے میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
چھینے گئے ایک ٹینکر کے ڈرائیور نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے ٹینکر اپنے قبضے میں لینے سے قبل ان کے دو ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا۔



















