تارکینِ وطن بھی کسادبازاری کا شکار

میکسیکن تارکینِ وطن
،تصویر کا کیپشنمیکسیکو سے امریکہ منتقل ہونے والے افراد کی تعداد میں ایک تہائی سے زائد کمی ہوئی ہے
    • مصنف, اینڈریو واکر
    • عہدہ, رپورٹر اقتصادیات، بی بی سی عالمی سروس

بی بی سی عالمی سروس کی تشکیل کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق عالمی کساد بازاری نے دنیا بھر میں ترکِ وطن کرنے والے افراد کی تعداد پر واضح اثر ڈالا ہے۔

واشنگٹن کے مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق جہاں عالمی اقتصادی بحران کے بعد ترکِ وطن کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے وہیں غیر ممالک میں موجود تارکینِ وطن کی جانب سے اپنے ملک بھیجی جانے والی رقوم میں بھی کمی ہوئی ہے تاہم مالی مشکلات کے باوجود یہ تارکینِ وطن اپنے اپنے وطن واپس نہیں جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میکسیکو سے امریکہ منتقل ہونے والے افراد کی تعداد میں سنہ دو ہزار چھ سے اب تک چالیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ اگر رومانیہ اور بلغاریہ سے سپین منتقل ہونے والے افراد کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ تعداد ساٹھ فیصد کم ہوگئی ہے۔

عالمی اقتصادی بحران میں تارکینِ وطن ملازمین کے نوکریوں سے ہاتھ دھونے کے امکانات مقامی افراد کی نسبت کہیں زیادہ ہیں کیونکہ تارکینِ وطن تعمیرات اور مہمانداری کے شعبوں سے زیادہ وابستہ ہوتے ہیں اور یہی وہ شعبے ہیں جو بحران سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

ملازمتوں سے برخاستگی ان افراد کی جانب سے اپنے ملکوں کو بھیجے جانے والی رقوم میں کمی کی اہم ترین وجہ بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی جانب سے واپس ترکی بھیجی جانے والی رقم میں سنہ دو ہزار آٹھ میں تینتالیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مالدووا میں یہ شرح سینتیس فیصد ہے اور اس کا ملکی آمدنی پر واضح اثر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ مالدووا میں بیرونِ ملک سے آنے والی یہ رقوم ملکی آمدن کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہیں۔ تاہم یہ رجحان ہر ملک میں نہیں اور پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے تارکینِ وطن کی جانب سے اپنے اپنے ملک کو بھیجے جانے والی رقوم میں اقتصادی بحران کے باوجود اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ تارکینِ وطن عالمی اقتصادی بحران سے متاثر ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے ملک واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔ ممکنہ طور پر اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کے آبائی ممالک نہ صرف اسی اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہیں بلکہ ان کی اقتصادی حالت ان ملکوں سے کہیں خراب ہے جہاں یہ تارکینِ وطن اس وقت موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ تارکینِ وطن کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ وطن واپسی کا ارادہ کر سکیں۔ یہ بات غیر قانونی تارکینِ وطن پر زیادہ صادق آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ صورتحال عموماً ہر جگہ ہے تاہم کچھ استثنائی واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً مشرقی یورپ سے برطانیہ اور آئرلینڈ منتقل ہونے والے بہت سے افراد اقتصادی بحران کے بعد واپس اپنے ملک چلے گئے ہیں کیونکہ ان کے آبائی ممالک میں اقتصادی صورتحال اتنی دگرگوں نہیں ہے اور پھر یورپی یونین میں شامل ممالک کے شہری ہونے کے ناتے وہ کبھی بھی واپس برطانیہ آ سکتے ہیں۔

چین میں ایک سو چالیس ملین افراد کام کی تلاش میں دیہاتی علاقوں سے صنعتی شہروں میں منتقل ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنچین میں ایک سو چالیس ملین افراد کام کی تلاش میں دیہاتی علاقوں سے صنعتی شہروں میں منتقل ہوئے ہیں

اگرچہ اس رپورٹ کا مرکزی خیال بین الاقوامی نقل مکانی تھا تاہم اس میں ایک ملک میں اندرونی طور پر ہونے والی نقل مکانی کا بھی جائزہ لیا گیا، اور وہ ملک ہے چین۔ چین سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار حیرت انگیز ہیں۔ جہاں چین سے بیرونِ ملک نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے اہلِ خانہ کو پہلے سے کہیں کم رقم بھیج رہے ہیں وہیں ہر برس نئے چینی سال کے موقع پر اپنےگھروں کو واپس جانے والے چینی باشندے اس سال چینی معیشت کی کمزوری کی وجہ سے ریکارڈ تعداد میں واپس اپنے آبائی علاقوں کو تو گئے تاہم وہاں سے شہر واپس آنے والوں کی تعداد جانے والوں سے کہیں کم تھی۔

لیکن چین میں اندازوں کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کام کی تلاش میں دیہاتی علاقوں سے صنعتی شہروں میں منتقل ہوئے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کی دسویں بڑی آبادی کے برابر ہے۔

کساد بازاری کی وجہ سے دنیا کے متعدد ممالک کے سیاسی ایجنڈے پر بین الاقوامی نقل مکانی اہمیت اختیار کر جاتی ہے اور کئی ممالک اپنے شہریوں کو میسر روزگار کے مواقع کے تحفظ کے لیے ورک پرمٹ کے اجراء میں کمی جیسے اقدامات بھی کرتے ہیں۔ رواں کساد بازاری کے بعد ملائیشیا، آسٹریلیا اور روس سمیت متعدد ممالک میں یہی ہوا ہے جبکہ سپین اور جاپان جیسے ممالک غیر ملکی تارکینِ وطن کو ان کے ملک تک مفت ہوائی سفر اور کچھ رقم دینے کی پیشکش بھی کر رہے ہیں۔ .

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کی یہ تحقیقاتی رپورٹ بہت متنوع اور معلومات سے بھرپور ہے اور اس میں کچھ معلومات ایسی ہیں جو ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ تارکینِ وطن اقتصادی بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان کی نوکریاں چلی گئی ہیں اور اس کا براہِ راست اثر ان کے آبائی ملکوں میں موجود ان کے اہلِ خانہ کے حالاتِ زندگی پر بھی پڑا ہے۔ تاہم ان تارکینِ وطن میں سے بہت سے اس طوفان کے گزر جانے کی امید میں وطن واپس جانے کی بجائے وہیں بیٹھے ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ عالمی نقل مکانی عالمی اقتصادی منظر کا ایک تیزی سے بڑھتا ہوا اہم حصہ ہے۔ دنیا بھر میں سرمایہ کاری بہتر مواقع کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتی رہتی ہے اور لوگ بھی اس روش پر چلنا چاہتے ہیں۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ جب حالات بہتر ہوں گے تو نقل مکانی کا یہ عالمی رجحان ایک بار پھر عروج پر ہوگا۔