خلیج کی پہلی میٹرو دبئی میں

دبئی میٹرو
،تصویر کا کیپشندبئی میٹرو دنیا میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹرینوں کے نظام میں سب سے لمبا نیٹورک ہوگا۔

خلیج میں ٹرین کے پہلے نیٹ ورک کا افتتاح بدھ کو دبئی میں ہوگیا ہے۔

’دبئی میٹرو‘ سسٹم میں بچھائی گئی پٹری کی لمبائی ستر کلو میٹر (تینتالیس میل) ہے۔ دبئی میٹرو دنیا میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹرینوں کے نظام میں سب سے لمبا نیٹ ورک ہوگا۔

اس ریل نیٹ ورک پر آغاز میں لگائے گئے تخمینے سے دوگنی رقم خرچ ہوئی ہے اور اس کا افتتاح ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے جب دبئی عالمی اقتصادی بحران کے باعث معاشی عدم استحکام سے گزر رہا ہے۔

دبئی میٹرو کا منصوبہ اس وقت سامنے آیا تھا جب شیخ زائد ہائی وے جس کے دونوں طرف آٹھ قطاریں ہیں پر ٹریفک دن رات جام رہتی تھی۔ اس ٹرین نیٹ ورک کی پٹری کا زیادہ تر حصہ اسی ہائی وے کے ساتھ بچھایا گیا ہے۔

لیکن دبئی میٹرو کو ایسے وقت پر کھولا جا رہا ہے جب عالمی معاشی بحران کے باعث سیاحوں کی تعداد میں کمی اور تارکین وطن کی واپسی کے باعث سڑکوں پر ٹریفک ویسے ہی کم ہوگئی ہے۔

دبئی میں گاڑی چلانے والے افراد سستے تیل اور ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں کے عادی ہیں اس لیے میٹرو کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان افراد کو گاڑی کا استعمال کم کر کے ٹرین پر سفر کرنے کی طرف راغب کرنا ہوگا جوکہ گرمی میں چالیس ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت میں اتنا آسان نہیں ہوگا۔

حکام نے جدید طرز کے سٹیشن بنائے ہیں، کرایہ مناسب رکھا ہے اور ٹرینوں میں خواتین کے لیے علیحدہ بوگیاں ہوں گی۔ حکام کے اندازے کے مطابق ہر سال دو سو ملین مسافر میٹرو پر سفر کریں گے۔

دبئی کے کئی رہائشیوں کا خیال ہے کہ دبئی وہ شہر ہے جو اپنی شناخت جدید سوچ والے شہر کے طور پر کروانا چاہتا ہے اس لیے ایسے شہر میں میٹرو ایک مثبت معاشرتی اور ماحولیاتی اضافہ ہے۔

لیکن اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ حکام کو اس منصوبے پر خرچ کیے گئے سات عشاریہ چھ بلین ڈالر پر منافع آنا کب شروع ہوگا۔

کیا آپ دبئی میں ہیں؟ کیا آپ میٹرو پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا دبئی میں لوگوں کی بڑی تعداد گاڑیوں کا استعمال کم کر دے گی؟

آپ کی آراء

ساجد علی، دبئی

میں دبئی میں رہتا ہوں اور یہاں رہنے والوں کے لیے میٹرو بہت اچھی سہلوت ہے کیوں کہ دن کے وقت بہت ٹریفک ہوتی ہے اور ہر کوئی یہ سوچے گا کہ ٹریفک سے بچا جائے۔ میرے خیال میں بہت سے لوگ میٹرو کو استعمال کریں گے اور میں خود بھی یہ سوچ رہا ہوں۔

امجد، دبئی

میرے خیال سے میں میٹرو پر سفر نہیں کروں گا کیوں کہ اس کی سہولت گنجان آباد رہائشی علاقوں میں موجود نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شتر فیصد غیر ملکی جو دبئی میں کام کرتے ہیں وہ شارجہ میں رہتے ہیں اور میٹرو شارجہ نہیں جاتی ہے۔ میٹرو دبئی کے زیادہ آبادی والے علاقوں سے بپی نہیں گزرتی ہے جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کے رش پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مثال کے طور پر سونا پور جہاں مزدوروں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

عاصم، دبئی

میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ میٹرو کو چیلنج کا سامنا ہوگا کیوں کہ جن لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں وہ میٹرو پر سفر نہیں کریں گے۔ میٹرو لوگوں کو سیدھا ان کی منزل پر تو نہیں پہنچائے گی اور کوئی بھی اس گرم موسم میں پیدل نہیں چل سکتا۔

میں نے اپنی گاڑی دو ماہ قبل بیچ دی تھی کیوں کہ میں میٹرو پر سفر کرنا چاہوں گا۔ میٹرو پر سفر کرنا آسان اور محفوظ ہوگا اور اس سے سفر میں وقت بھی کم لگے گا۔

امجد، شارجہ

میرے خیال میں میٹرو کو کامیاب بنانے کا زیادہ دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے اجمان اور شارجہ کے ساتھ کب لنک کیا جاتا ہے کیوں کہ زیادہ رش تو انہی دو شہروں سے جاتا ہے۔ جو اجمان سے گاڑی لے کر جائے گا وہ دبئی میں گاڑی کھڑی کر کے تو میٹرو پر سفر نہیں کر سکتا۔

زبیر احمد، دبئی

میرا خیال ہے کہ اگر میٹرو کا کرایہ مناسب ہو اور مزید روٹ اور سٹیشن اس نیٹورک میں شامل کیے جائیں تو یہ سروس ضرور کامیاب ہوگی۔

اشفاق احمد، دبئی

میرے خیال سے جس طرح ٹیکسی کا کرایہ بڑھا ہے تو یہ منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ کرایہ کم ہو تو مزدور طبقہ جس کی آمدن کم ہوتی ہے اس سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے دبئی کی سیر کرنا اور شہر کو سمجھنا آسان ہو جائے گا اور لوگ دبئی کا دوبارہ رخ کریں گے۔