افغان انتخابات، احتیاط کی تلقین

افغانستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے افغان انتخابات پر تنقید کرنے والوں کو ’فوری طور پر کسی نتیجے‘ پر نہیں پہنچنا چاہیئے۔
امریکی ایلچی نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ انتخابات پر کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے سے پہلے آزاد الیکشن کمیشن کو ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کو دوبارہ کروانا مناسب نہیں ہے۔
اس سے قبل انتخابی عذرداریوں کے متعلق کمیشن نے کچھ ووٹوں کو منسوخ کیا ہے۔
بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ سے بات کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ ’افغانستان میں سب لوگ ووٹ نہیں ڈال سکیں ہیں، اور جیسا کہ میں اس الیکشن سے پہلے کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ پورے مغرب میں بھی انتخابات مکمل طور پر نقائص سے پاک نہیں ہوتے، اور اس طرح کے حالات میں انتخابات منعقد کرانا ہی ایک بہادری کا کام ہے۔ اس لیے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے دیکھنا چاہیئے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ جب انتخابی عمل میں ہی دھاندلی ہو رہی ہے تو غیر ملکی فوجی پھر وہاں کس لیے لڑ رہے ہیں تو رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ ’ہمارے دشمن وہ ہیں جنہوں نے 9/11 کے حملے کیے ہیں، جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا، جنہوں نے لندن پر حملہ کیا، اور جو مغرب کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان اور افغانستان کے لیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس لیے ہم وہاں ہیں۔ اور یہ اہم مقصد ہی وہ وجہ ہے جس کے لیے امریکی، برطانوی اور دیگر ممالک کے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی جانیں داؤ پر لگانے کے لیے کہا گیا ہے۔‘
برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی بی بی سی سے افغان انتخابات کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی بھی اس بات پر اعتماد ہے کہ شفاف نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم افغان عوام کی خواہشات کی قابلِ اعتبار نمائندگی چاہتے ہیں۔ یہ جنگ زدہ ملک ہے اور میں اس کے متعلق کوئی بڑے دعوے نہیں کرنا چاہتا، میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کی بات نہیں کرتا۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی ایک قابلِ اعتبار حکومت کا حصول ممکن ہے جو افغان عوام کی خواہشات کی نمائندگی کرے۔‘





















