’الیکشن کمیشن موجودہ صدر کے ساتھ ہے‘

افغانستان کے انتخابات میں موجودہ صدر حامد کرزئی کے سب سے اہم حریف عبداللہ عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔
بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن صدر حامد کرزئی کے ساتھ تھا۔
تین ہفتے قبل شروع ہونے والے افغان انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں میں دھاندلی کے الزامات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اگرچہ ابھی ووٹوں کی گنتی پوری طرح ختم نہیں ہوئی لیکن موجودہ صدر حامد کرزئی پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ لے چکے ہیں اس لیے انہیں دوسرے مرحلے میں انتخابی تیاری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے عمل میں ہی کئی خامیاں ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے الزام لگایا کہ انتخابات کو افغان عوام سے چھین لیا گیا ہے اور آزاد انتخابی کمیشن ’سب کچھ ہے لیکن آزاد نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ کرپٹ ہے، اور اس کی بدعنوانی اب دور تک پھیل چکی ہے۔ میرے خیال میں یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے کہ وہ شخص جس نے بڑے پیمانے پر فراڈ کیا ہو وہ پانچ سال تک ملک پر حکمرانی کرے۔‘
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ پرامن طریقے سے شفاف نتائج سامنے لائے جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















