صومالیہ میں القاعدہ رہنما ’ہلاک‘

صالح علی صالح
،تصویر کا کیپشنصالح علی صالح پر الزام ہے کہ انہوں نے کینیا میں اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی

امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس کی فوج کے خصوصی دستوں نےصومالیہ میں ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کے مشتبہ رہنما صالح علی صالح نبہان کو ہلاک کر دیا ہے۔

کینیائی باشندے صالح علی صالح نبہان کا شمار القاعدہ کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ کافی عرصے امریکہ کو مطلوب تھے۔

نبہان پر الزام تھا کہ وہ کینیا میں ایک اسرائیلی ہوٹل پر حملے کے ذمہ دار تھے۔ صالح محمد صالح پر یہ بھی الزام کہ انہوں نے کینیا میں ہی اسرائیل کے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

امریکی حکام نے القاعدہ کے مشتبہ رہنما کی ممکنہ ہلاکت کا اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا ہے جن کے مطابق سوموار کی صبح غیر ملکی افوج نے صومالیہ کے ساحلی قصبے براوے میں ایک کارروائی کی ہے جس میں الشباب نامی تنظیم کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فرانس کے فوجیوں نے یہ کارروائی کی تھی لیکن فرانس کے فوجی ترجمان نے ان اطلاعات کے تردید کی۔

صومالی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں چھ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا اور انہوں نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صالح علی صالح نبہان اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد امریکی فوجی دو لاشیں چھوڑ گئے جبکہ دو افراد کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے۔

صومالیہ کی تنظیم الشباب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ امریکہ کی فوج صومالیہ کے ہمسایہ ملک جبوتی میں تعینات ہے اور اس سے پہلے بھی صومالیہ میں مسلح اسلامی گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔