افغانستان کی صورتحال پر تشویش

جان کیری
،تصویر کا کیپشنجان کیری نے یہ بیان سینیٹ میں افغانستان کے مستقبل اور امریکی لائحہ عمل پر بحث کے لیے کانگریشنل ہیئرنگ کے آغاز پر دیا
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق امیدوار اور سینیٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمن سینیٹرجان کیری نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، انتہائی ناقص صدارتی انتخابات، ملک میں منشیات فروشوں کو کھلی چھوٹ اور بد عنوانی اور افغان عوام کا اپنی اور ہماری حکومتوں پر سے اعتبار کا اٹھ جانا ایسے معاملات ہیں جن کا حل تلاش کیے بغیر افغانستان کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔

یہ باتیں جان کیری نے امریکہ کے سینیٹ میں افغانستان کے مستقبل اور امریکی لائحہ عمل پر بحث کے لیے کانگریشنل ہیئرنگ کے آغاز پر اپنے بیان میں کی ہیں۔

جان کیری نے کہا کہ آج امریکی جن چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ان میں افغانستان کی صورتحال سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تھیں اس وقت اس کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن آج امریکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر منقسم اور کنفیوز ہے۔

امریکی سینیٹ آئندہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان کی صورتحال پر طویل بحث کرے گی اور اس سلسلے میں کئی اعلیٰ اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

جان کیری نے امریکہ کی سلامتی اور خطے میں حالات کی بہتری کے لیے پاکستان کے استحکام پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ دوبارہ نہ بن سکے اور پاکستان کو غیر مستحکم نے کر سکے کیونکہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔

جان کیری نے امریکی کانگریس سے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کا ادراک کرلے کہ ہم افغانستان میں کیا حاصل کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ افغانستان میں امریکی طرز کی جمہوریت قائم نہیں کر سکتا کیونکہ ہر ملک کے حالات، ثقافت اور طور طریقے مختلف ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب خود سے وہ سوال پوچھیں جو جنرل پیٹریئس نے دوہزار تین میں عراق جنگ سے پہلے پوچھا تھا کہ ’اس کا اختتام کیسے ہوگا؟‘

افغنستان میں امریکہ کے مستقبل کے بارے میں انتہائی زیادہ تشویش پائی جاتی ہے اور بظاہر کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہںی کہ جنگ کیسے ختم ہوگی؟

افغانستان میں جنگ کے دوران آٹھ سو تیس امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ امریکہ اس جنگ پر دو سو ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پہلی مرتبے اگلے برس کے لئے عراق کی جنگ سے زیادہ افغان جنگ کے لئے بجٹ مانگا ہے۔ اور امریکی فوج کے کمانڈر نے مزید فوج افغانستان بھیجنے کی درخواست کی ہے۔