حامد کرزئی جیت کے قریب

افغانستان میں انتخابات سے متعلق حکام آج یعنی اتوار کو ایک اجلاس میں اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے مکمل ابتدائی نتائج کے اعلان کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔ الیکشن کمشن اس وقت تک ووٹوں کی گنتی کو حتمی شکل نہیں دے سکتا جب تک انتخابی عذرداریوں سے متعلق ایک علیحدہ کمیشن سینکڑوں سنگین انتخابی بے ضابطگیوں کے بارے میں اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا۔
اب تک پچانوے فی صد پولنگ سٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہوچکی ہے جس کے اعتبار سے موجودہ صدر حامد کرزئی جیت رہے ہیں۔ تاہم کابل میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اتنی تعداد میں ووٹ فاسد قرار دے دیا جائے کہ دوبارہ انتخابات کروانے پڑ جائیں۔ افغانستان کے آئین کے مطابق جیتنے والے امیدوار کے لیے پڑنے والے ووٹوں کا پچاس فی صد حاصل کرنا ضروری ہے۔
انتخابی شکایات کے کمیشن کے سربراہ گرانٹ کِپّن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے ہفتے دو ہفتے پہلے غزنی، پکتِکا اور کندھار میں تحقیقات مکمل کر لی تھیں۔ آجکل ہم کابل میں ملنے والی شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ہم دیگر صوبوں میں بھی جائیں گے تاکہ باقی رہنے والی چھ سے زائد شکایات کی تحقیقات کی جا سکیں۔‘
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے تازہ ترین ابتدائی نتائج میں صدر حامد کرزئی کو چون فیصد ملے ہیں جبکہ دوبارہ الیکشن نہ کروانے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم از کم پچاس فیصد ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
ان کے حریف، سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ موجودہ صدر حامد کرزئی پر دھاندلی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا افغانستان کا الیکشن کمیشن بھی متعصب ہے اور حامد کرزئی کا ساتھ دے رہا ہے۔
اس کے اگلے ہی روز افغانستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے افغان انتخابات پر تنقید کرنے والوں کو ’فوری طور پر کسی نتیجے‘ پر نہیں پہنچنا چاہیئے۔
امریکی ایلچی نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ انتخابات پر کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے سے پہلے آزاد الیکشن کمیشن کو ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ انتخابات کو دوبارہ کروانا مناسب نہیں ہے۔



















