امریکہ کی افغان حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی؟

امریکہ میں سرکاری اہکاروں کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما، نائِب صدر جو بائِڈن کے منصوبے سمیت ان امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائے اور وہاں اور پاکستان میں القاعدہ کا خاتمہ کیا جائے۔اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق زیرِ نظر معاملات کو سرکاری اہلکار صدر اوباما کی اس افغان پالیسی پر نظرِ ثانی قرار دے رہے ہیں، جس کا اعلان امریکی صدر نے بڑے زور شور سے چھ ماہ پہلے کیا تھا۔افغانستان اور پاکستان کی صورتِ حال کا نیا اندازہ لگانے کے لیے انٹیلیجنس کی طرف سے دو مختلف رپورٹوں پر بھی غور ہوگا۔
گزشتہ پالیسی کے از سرِ نو جائزے کی وجہ زمینی صورتِ حال کی خرابی، افغان انتخابات سے پیدا ہونے والی خرابیاں اور صدر اوباما کے کمانڈر سٹینلے میک کرسٹل کی طرف سے افغان جنگ پر خطرناک رپورٹ ہے۔ صدر کے مشیروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے مارچ میں جس حکمتِ عملی کا اعلان کیا تھا کیا اس سے اب بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اور کیا یہ پالیسی جنرل میک کرسٹل کے مزید فوجیوں کے مطالبے کے ساتھ چل سکتی ہے۔
صدر اوباما کے معاونین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ صدر مختلف مفروضات کی جانچ کر رہے ہوں اور اپنی جماعت میں لبرل ذہن رکھنے والوں کو یہ یقین دلا رہے ہوں کہ وہ جنگ کو مزید پھیلانا نہیں چاہتے لیکن بالآخر وہ جنرل میک کرسٹل کی مزید فوج افغانستان بھیجنے کی درخواست قبول کر لیں۔ تاہم بظاہر اس صورتِ حال میں صدر اوباما یہ غور کر رہے ہیں کہ وہ اس آٹھ سالہ جنگ میں اور کتنا الجھنا چاہتے ہیں جو امریکہ کے لیے زیادہ اچھے نتائج پیدا نہیں کر رہی۔
اگرچہ صدر اوباما افغانستان کے استحکام کو امریکی سکیورٹی کے لیے مرکزی نکتہ قرار دیتے ہیں لیکن کچھ مشیروں کا خیال ہے کہ وہ باہر کے ملک میں کسی دلدل میں پھنسنا نہیں چاہتے۔ پینٹاگون کے بعض اہلکار کہتے ہیں انہیں فکر ہے کہ صدر اوباما کو اس بات پر ’ندامت‘ ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے تین ہفتے کے اندر اندر نئی حکمتِ عملی کے تحت اکیس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کر دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق صدر اوباما کے سامنے جو نئی تجاویز رکھی جا رہی ہیں ان میں نائِب صدر جو بائِڈن کی فوجیوں میں کمی کی تجویز بھی ہے کہ افغانستان میں لوگوں کو طالبان سے بچانے کی بجائے امریکی کمانڈوز کی توجہ پاکستان میں القاعدہ کے مرکز ختم کرنے پر رہے جن میں میزائِل حملے اور دوسری جنگی حکمتِ عملی شامل ہے۔
















