’طالبان ابھی کمزور نہیں ہوئے‘

طالبان
،تصویر کا کیپشن کچھ عرصے سے طالبان خاموش ہوگئے تھے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صوبہ سرحد کے دو اہم شہروں میں تھوڑے وقفے سے دو بڑے حملوں سے شدت پسندوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مالاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں حالیہ دنوں میں بڑے نقصانات سے شدید دباؤ میں ہیں البتہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔

اگر گزشتہ چند دنوں میں شدت پسند خاموش تھے تو اس کی وجہ انتظامی مسائل، ماہ رمضان اور عید تو ہوسکتی ہے ان کی کمزوری نہیں۔ اس کی وضاحت خود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر اور خودکش حملہ آوروں کے استاد قاری حسین نے خود ہی بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کر دی۔

ان کا کہنا تھا ’ کچھ عرصے سے طالبان خاموش ہوگئے تھے اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ طالبان کمزور ہوگئے ہیں۔ ہم سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اب تیزی لائیں گے۔‘

سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا کالعدم تحریک کا ایک پرانا منصوبہ ہے جسے وہ کافی عرصے سے عملی جامعہ پہنا رہے ہیں۔ لاہور سے لے کر بنوں تک پولیس اور قبائلی علاقوں میں خاصہ دار ان کا ہدف کب سے بنے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل تحریک کے ترجمان اعظم طارق نے ان قبائلیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سکیورٹی فورسز میں اپنی ملازمتوں کو تین ماہ کے اندر ختم کر دیں ورنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ اس بیان سے واضح ہے کہ طالبان کا نشانہ سکیورٹی فورسز ہی رہیں گی۔

لہذا بنوں دھماکے کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن پشاور صدر کے مصروف تجارتی مرکز کو آج دوبارہ نشانہ بنانے کی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔

پشاور حملے میں چالیس دوکانیں، بینک، گرین شادی ہال، نجی ایف ایم ریڈیو براق اور موٹر بارگینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ چھاؤنی کا ہے لیکن بظاہر یہاں کوئی فوجی تنصیبات نہیں ہیں۔ قریب میں تاہم ایک فوجی ہسپتال موجود ہے۔

البتہ اس کے باوجود اسی مصروف علاقے کو اس سے قبل بھی دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ایک مرتبہ ایک گاڑی میں رکھی گئی ٹینک شکن بارودی سرنگ پھٹ نہیں پائی تھی۔ اس جگہ کا بار بار انتخاب قابل حیرت عمل ہے۔ تاہم پشاور میں دیگر علاقے بھی اس قسم کے حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ اس شہر کی تو قسمت میں اسّی کی دہائی سے بم دھماکے اور خودکش حملے رہے ہیں۔

تحریک طالبان کے لیے تاہم شہری مقامات کو نشانہ بنانا مزید مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ تنظیم کی نئی قیادت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس سے ان کے خلاف نفرت مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلے ہی سوات میں ان کے اعمال سے لوگ ان سے کافی متنفر ہوگئے تھے۔

اس قسم کے شہری مقامات پر حملے ایک جانب انہیں عوامی حمایت سے محروم تو دوسری جانب حکومت پر ان کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھانے کے لیے دباؤ کا سبب بنے گا۔ اسی لیے ابھی تک طالبان نے صرف بنوں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے پشاور کی بات نہیں کی ہے۔

شدت پسندوں کو جن اندرونی انتظامی مسائل کا سامنا ہے اس کا ایک اندازہ قاری حسین کی بی بی سی کو ٹیلی فون کال سے بھی ہوتا ہے۔ قاری حسین آج تک بہت کم میڈیا سے رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے پس پردہ رہنا زیادہ پسند کیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ انہیں آخر کیوں اس کال کی ضرورت پڑی۔

آج کے حملے مبصرین کے خیال میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک نئے راونڈ کا آغاز ہے۔ اپنے امیر بیت اللہ محسود، ترجمان مولوی عمر اور مسلم خان جیسے اعلی رہنماوں کی ہلاکت یا گرفتاری کے بعد یہ راونڈ مزید خونی ہوسکتا ہے۔