بیروت ڈائری: لبنان میں انبیا کی زیارتیں

مزار
،تصویر کا کیپشنلبنان میں ایک مزار
    • مصنف, شاہ زیب جیلانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت

صبح کے آٹھ بج رہے ہیں۔ آج اتوار ہے، چھٹی کا دن۔ میں ایک کوسٹر میں سوار ہوں جو دارالحکومت بیروت سے ملک کے جنوب میں واقع سر سبز پہاڑیوں کی طرف رواں دواں ہے۔ قوالی بجاتی اس کوسٹر کا ڈرائیور لبنانی ہے اور مسافر سارے کے سارے پاکستانی۔ یہ لوگ برسوں سے لبنان میں رہتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ دن بھر کے اس سفر میں ہمارا ارادہ جنوبی لبنان کی کوئی درجن بھر زیارتیں کرنے کا ہے۔

اس ٹوور کے ذریعے پاکستانوں کو اکھٹا کرنے کا آئیڈہ عالم صاحب کا ہے۔ وہ بیروت میں ایک بلڈنگ میں چوکیدار ہیں۔ عالم صاحب کا اندازِ گفتگو ذرا وکھری ٹائپ کا ہے اور وہ بات کرتے کرتے آپ سے الُجھ پڑتے ہیں۔ لیکن جو ُانہیں جانتے ہیں کہتے ہیں کہ آدمی دل کا بڑا صاف ہے۔ بہرحال، اس وقت وہ ہمارے ٹوور گائیڈ ہیں اور ہم اُن کے رحم و کرم پر!

اس سفر میں ہم پہلے پہل لبنان کے شوف نامی پہاڑی سلسلے میں واقع ایک پُر وقار عمارت کے سامنے پہنچے۔ مزار کے برابر میں ایک اندھیرا غار نظر آیا جہاں عقیدت مند موم بتیاں جلا کر باری باری اندر جا رہے تھے۔ بتایا گیا یہ ایوب علیہ السلام کا مزار ہے۔

حضرت ایوب کے بارے میں عرصہ ہوا بچپن میں قصص الانبیا میں پڑھا تھا۔ سو یادداشت کی تازگی کے لیے میں نے یونہی اپنے ہمسفر زوار بشیر سے پوچھا کہ خدا نے پیغمبر تو بہت سارے بھیجے، حضرت ایوب کا بھلا کیا قصہ تھا؟ جواب ملا: ’نبی تھے اللہ کے! اس میں قصے والی تو کوئی بات ہی نہیں‘۔ میں نے اپنا سوال ذرا گُھما کر پھر سے پوچھا: میرے مطلب ہے کہ اُن کی خاصیت کیا تھی؟ جنُجھلاہٹ بھرا جواب ملا: ’اوہ بھائی نبی تھے اللہ کے۔ اس سے بڑھ کر کوئی خاصیت ہو سکتی ہے کیا؟ یہاں وہ اللہ عبادت کرتے تھے۔ پھر یہیں ان کی وفات ہوئی اور اب یہاں ان کا مزار ہے۔ ذرا دیکھو کتنی رونق لگی ہوئی ہے!‘

غار
،تصویر کا کیپشنوہ غار جو حضرت ایوب علیہ السلام کی عبادت گاہ تھا

رونق تو تھی پر میں اس رونق کی تاریخی وجہ سمجھنا چاہ رہا تھا۔ لیکن ہم ایک دوسرے کو اپنی بات شاید سمجھا نہیں پا رہے تھے۔ ایسے میں ہمارے ایک اور ہم سفر سلیم میری مدد کو آن پہنچے اور گفتگو میں شامل ہوگئے:

’جناب یہ وہی نبی ایوب ہیں جن کا قرآن میں بھی ذکر ہے کہ کس طرح اللہ نے اُنہیں آزمائیش میں ڈالا، ان کے پاس جو کچھ تھا وہ ان سے چھین لیا۔ ان کے جسم میں کیڑے پڑ گئے۔ سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا اور یہاں غار میں اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ آخرکار اللہ نے کہا کہ واقعی یہ میرا سچا بندہ ہے اور پھر انہیں شفا بخشی۔ اسی لیے دنیا میں ’صبر ایوب، کی مثال دی جاتی ہے۔‘

دین میں صبر اور برداشت کی یہ مثال اپنی جگہ، لیکن دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ کوسٹر میں سوار میرے پاکستانی بھائی بھوک کے مارے بے صبر ہونے لگے۔

زائرین ٹوور گائیڈ سے مطالبہ کرنے لگے کہ کہیں رک کر پہلے پیٹ پوجا کر لی جائے۔ لیکن عالم صاحب کا عالم یہ نظر آیا کہ وہ یکے بعد دیگرے زیارتیں کرنے پر مُصر تھے۔ کوسٹر میں سوار زائرین میں بغاوت بڑھنے لگی تو کچھ لوگ بھوک کے مارے مسٹر عالم کو ’مسٹر ظالم‘ کہہ کر کوسنے لگے۔

سرحد
،تصویر کا کیپشنلبنان اور اسرائیل کا درمیانی اور سرحدی علاقہ

عالم صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کوئی پیشہ ور ٹوورگائڈ تو ہیں نہیں۔ شاید اسی لیے جو زیارتیں وہ ہمیں گھمانے نکلے اُن میں سے کچھ کے راستے انہیں خود بھی معلوم نہیں۔ ڈرائیور بیچارہ پہاڑوں میں پوچھتا پچھواتا ہمیں جن مزاروں پہ لے گیا اُن کے بارے میں مجھ سمیت اکثر زوار زیادہ نہیں جانتے تھے۔ مزاروں پر پہنچتے ہی عقیدتمندوں کو اتارا جاتا، سب جلدی جلدی ہاتھ اٹھا کر دعا پڑھتے، تصویریں بناتے ہیں اور واپس کوسٹر میں آ بیٹھتے۔

کئی ایک مزاروں میں لوگ اندر نہ جا سکے کیونکہ وہ بند تھے۔ جب کچھ لوگ ٹوور کے انتظامات پر پھر شکایت کرنے لگے تو ہمارے مبینہ گائیڈ مسٹر عالم نے جھٹ سے انہیں سمجھایا ’اوہ بھائی فکر کیوں کرتے ہو! دعا مانگنے آئے ہیں، دعا مانگ کر ہی جائیں گے‘۔ یہ کہہ کر انہیں نے تالے لگے ہوئے مزار کے باہر ہی سڑک پر سب کو ہاتھ اٹھانے کو کہا اور وہیں اجتماعی دعا فرما دی۔مزار کس تھا؟ کب سے قائم تھا؟ نہ کسی نے پوچھا۔ نہ کسی نے بتایا۔

بِلآخر ایک مزار میں داخل ہونے سے پہلے میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی ڈالا: یہ کس کا مزار ہے؟ فوراً جواب ملا: نبی عاصم کا! دعا مانگ کر سب واپس آکر کوسٹر میں بیٹھے تو میں نے تصدیق کی خاطر پھر پوچھا: کیا بتایا آپ نے یہ کس کا مزار تھا؟ اِس بار جواب ملا: نبی قاسم کا! میں نے وضاحتً کہا: لیکن پہلے تو آپ نے بتایا کہ یہ نبی عاصم کا مزار ہے؟ جواب ملا: ’اوہ یار پہلے میں یہی سمجھا تھا۔ ویسے فرق کیا پڑتا ہے؟ عاصم ہو یا قاصم۔ تھے تو دونوں ہی خدا کے نبی!‘

ٹوور کے دوران زیارتیں کرتے کرتے پتہ نہیں کب ہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب حزبِ اللہ کے علاقے میں جا پہنچے۔ تین سال پہلے اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران اس علاقے پر اسرائیل نے خاصی بمباری کی تھی۔ آج یہاں اقوامِ متحدہ کے امن دستے تعینات ہیں جن کا کام اس علاقے میں ہر آنے جانے والے پر کڑی نگاہ رکھنا ہے۔

اب شام ہو چکی تھی۔ آخر کار عالم صاحب کو بھوک سے ماری اپنی قوم پر کچھ ترس آ ہی گیا اور ہم جنوبی شہر ٹائیر میں ایک ریستوران میں کھانے کے لیے رکے۔ کھانا اتنا زیادہ آڈر کیا گیا اور اتنا زبردست تھا کہ ہر ایک نے جم کر کھایا اور سب کی شکایتیں دور ہو گئیں۔ہم نے اسرائیلی سرحد کے قریب آخری کچھ زیارتیں کیں اور رات گئے مسٹر عالم کی قیادت میں اپنا یہ پاکستانی سٹائل گائیڈڈ ٹوور پورا کرکے واپس دارالحکومت بیروت کا رخ کیا۔